اسحاق ڈارنااہلی درخواست،سپریم کورٹ نے عدم پیروی پرخارج کردی

اگرمقررہ مدت کےدوران اسحاق ڈارنےسینیٹ کی رکنیت کاحلف نہ اٹھایاتونشست خالی تصور ہوگی
[caption id="attachment_1743012" align="alignnone" width="640"]Ishaq-Dar فوٹو: اے ایف پی[/caption]

سپریم کورٹ نے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی ناہلی کے لیے دائر درخواست عدم پیروی پر خارج کردی ہے۔

منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ سماعت کے موقع پر درخواست گزار موجود نہیں ہیں اوراسحاق ڈار بھی نہیں آئے۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل بیمار اور بیرون ملک ہیں۔عدالت نے عدم پیروی پر درخواست ہی خارج کردی جس کے بعد اب الیکشن کمیشن اسحاق ڈار کی کامیابی کا نوٹیفکیشن جاری کرے گا۔اگر مقررہ مدت کے دوران اسحاق ڈار نے سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہ اٹھایا تو نشست خالی تصور ہوگی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان کا موقف 

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے موقف اختیار کیا کہ حکومت نے اراکین پارلیمنٹ کے حلف کے حوالے سے نیا قانون بنایا،جس کے تحت 60 روز تک حلف نہ اٹھانے والے رکن پارلیمنٹ کی نشست خالی تصور ہوگی۔ مسلم لیگ ن نے اس قانون سازی کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چینلج کیا مگر وہ خارج ہوگئی تاہم اب انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مسلم لیگ ن کا موقف ہے کہ سپریم کورٹ نے اسحاق ڈارکی کامیابی کا نوٹیفکیشن معطل کررکھا ہے۔سپریم کورٹ نے بار باراسحاق ڈار کو طلب کیا مگروہ پیش نہیں ہوئے اور وہاں کہتے ہیں کہ نوٹیفکیشن معطل ہونے کی وجہ سے پیش نہیں ہوسکتے۔

اسحاق ڈار کا موقف

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنما سینیٹر اسحاق ڈار نے اب تک حلف نہیں اٹھایا۔ اس متعلق اسحاق ڈار نے الیکشن کمیشن کو خط بھی لکھا تھا۔ خط میں مؤقف اپنایا گیا تھا کہ 40 دنوں میں حلف لینے کا اطلاق مجھ پر نہیں ہوتا۔

سابق وزیر خزانہ نے اپنے خط میں واضح کیا تھا کہ میرے نوٹیفکیشن کو 8مئی 2018 کو سپریم کورٹ نے معطل کیا تھا۔ میرا مقدمہ زیر التوا ہے، جس کے تحت میرا نوٹیفکیشن معطل ہے، جب تک سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں آتا میں سینیٹ کی رکنیت کا حلف نہیں لے سکتا۔اسحاق ڈار نے اپنے خط میں یکم ستمبر کے صدارتی آرڈیننس کا بھی حوالہ دیا۔

Tabool ads will show in this div