اسٹیبلشمنٹ کو مولانا فضل الرحمان کی ضرورت ہے،زاہد خان 

رہنما اے این پی کی سات سے آٹھ میں گفتگو 
Dec 20, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/ZAHID-KHAN.mp4"][/video]

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما اور سابق سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ خطے کے مخصوص حالات کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کو مولانا فضل الرحمان کی ضرورت ہے۔ 

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے زاہد خان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ افغانستان کی موجودہ حکومت سے اچھے روابط کی خواہاں ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے مولانا فضل الرحمان ایک بہتر آپشن ہیں۔ 

سینیٹر زاہد خان نے کہا کہ اگر خیبر پختونخوا کے بلدیاتی الیکشن میں مولانا فضل الرحمان کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے سپورٹ ملی ہے تو عین ممکن ہے کہ اس کی بنیادی وجہ افغانستان میں طالبان کا اقتدار میں آنا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر خیبر پختونخوا کے بعد بلوچستان بھی جمعیت علماء اسلام کی جھولی میں جائے گا۔ 

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ان بلدیاتی انتخابات کو شفاف نہیں کہا جاسکتا جس کی وجہ پری پول دھاندلی ہے کیوں کہ سارے وزراء و مشیر انتخابی مہم میں حصہ لے رہے تھے یہاں تک کہ الیکشن کمیشن کے منع کرنے کے باوجود عمران خان نے صوبہ کا دورہ کیا۔ 

سینیٹر زاہد خان کا کہنا تھا کہ عوامی نیشنل پارٹی الیکشن اکیلے لڑی جبکہ مولانا فضل الرحمان کو مسلم لیگ ن اور قومی وطن پارٹی کی سپورٹ حاصل تھی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس وقت صوبہ میں نشستوں کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہیں اور جو نشتیں ہم نے ہاریں اس میں بھی مخالف کی جیت کا مارجن بہت تھوڑا ہے۔ 

Tabool ads will show in this div