امرتسر: گولڈن ٹیمپل کی 'توہین' پرایک شخص تشدد سے ہلاک 

 گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب میں توہین پر 2 ہلاکتیں رپورٹ 

 

بھارت کے شہر امرتسر میں سکھوں کے تاریخی گوردوارہ گولڈن ٹیمپل میں ایک شخص کو مبینہ طور پر توہین آمیز حرکت کرنے پر تشدد کرکے ہلاک کردیا گیا۔ 

بی بی سی کے مطابق امرتسر پولیس نے سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹیمپل پر ایک شخص کو توہین کے الزام میں وہاں موجود لوگوں کی جانب سے تشدد کر کے ہلاکت کی تصدیق کردی گئی ہے۔ 

رپورٹ میں بھارتی میڈیا کے حوالے سے لکھا گیا کہ مذکورہ واقعہ ہفتہ کی شام امرتسر میں گولڈن ٹیمپل کے اندر عبادت کے دوران اس وقت پیش آیا جب ایک شخص وہاں داخل ہوا جہاں سکھوں کی مقدس کتاب گرو گرنتھ صاحب رکھی گئی ہے۔ اس شخص نے کتاب کے ساتھ موجود رسمی تلوار کو چھونے کی کوشش کی مگر اسے سکیورٹی گارڈز اور وہاں موجود دیگر افراد نے روک لیا۔ مقامی وقت کے مطابق یہ واقعہ شام پانچ بج کر 45 منٹ پر ہوا۔ 

مذکورہ واقعہ کو کیمرے کی ریکارڈنگ میں دیکھا جا سکتا ہے جو شام کی عبادت کو ٹی وی پر نشر کر رہے تھے۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ جب ان کے اہلکار وہاں پہنچے تو یہ شخص مردہ حالت میں تھا۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ 

بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کو دوران ایک اور شخص بھی مبینہ توہین کے الزام میں تشدد کے ذریعے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ ہلاک شدہ فرد نے ریاست پنجاب کے شہر کپورتھلا کے ایک مندر سے سکھوں کے جھنڈے نشان صاحب کو ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ 

رپورٹ کے مطابق پولیس نے ابتدائی طور پر اس شخص کو حراست میں لے لیا تھا مگر مقامی افراد اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوران ہی وہ شخص کو مارا دیا گیا۔ 

ریاست پنجاب کے وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی نے ٹویٹر پیغام میں پولیس کو ہدایت کی ہے کہ اس ظالمانہ حرکت کا مقصد اور اس کے پیچھے اصل سازشی عناصر کا پتہ لگایا جائے۔ 

اس واقعہ سے چند روز قبل ایک شخص نے مبینہ طور پر سکھوں کی مقدس کتاب گٹکا صاحب کو گولڈن ٹیمپل میں بنائے گئے تالاب میں پھینک دیا تھا جس کے بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ 

خیال رہے کہ سکھ برادری اپنی عبادت گاہوں کا تقدس برقرار رکھنے کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ سن 2014، 2015، 2017 اور 2019 میں ہونے والے بے حرمتی کے واقعات نے پنجاب کے انتخابات کے دوران ایک سیاسی بحران کھڑا کردیا تھا  

حکمران کانگریس پارٹی کو سیاسی مخالفین اور بہت سے سکھوں نے بے حرمتی کے سابق مجرموں کے خلاف قانونی کارروائی میں ناکامی پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ 

بھارتی ریاست پنجاب میں اپوزیشن کی جماعت اکالی دل کے ایم پی بلوندر بھندر نے ہفتہ کے روز ہونے والے واقعہ کی مذمت کی ہے۔ مقامی نیوز چینل این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس عمل کے ذریعے جان بوجھ کر پنجاب کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی جو انڈیا کا مضبوط ہاتھ ہے۔ 

 

Tabool ads will show in this div