موٹروےزیادتی کیس،سزاکیخلاف اپیل،فاضل جج کی رخصت کےباعث کازلسٹ منسوخ

عدالت نےدونوں مجرموں کو سزائے موت دینے کا حکم سنایا تھا

لاہور ہائیکورٹ میں موٹروے زیادتی کیس کے مجرموں عابد ملہی اور شفقت بگا کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت بینچ کے فاضل جج کی رخصت کے باعث منسوخ کردی گئی۔

پیر کو لاہورہائی کورٹ میں موٹروے زیادتی کیس کے مجرموں کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت بینچ کے فاضل جج کی رخصت کے باعث کازلسٹ منسوخ ہونے کی وجہ سے نہ ہوسکی۔

سات دسمبر کو ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل پنجاب محمد ارشد فاروقی نے مجرمان کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا، عدالت نے مجرمان کی اپیل پر سرکار اور مدعی مقدمہ سردار شہزاد کونوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا۔

اپیل میں موقف

موٹروے ریپ کیس کے مجرمان کی بریت کی اپیل میں موقف اختیار کیا کہ لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے حقائق کے برعکس سزائے موت کا حکم دیا لہٰذا عدالت سزائے موت کے حکم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے بری کرنے کا حکم دے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے فیصلے کو برقرار رکھنے کی اپیل میں حکومت نے موقف اختیار کیا کہ دونوں مجرموں کو قانون کے مطابق سزائے موت دی گئی ہے۔

جج اے ٹی سی  لاہورکی جانب سے مجرمان کے سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کے لئے ہائیکورٹ ریفرنس بھجوایا گیا ہے۔ مجرمان  کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے سیکشن 25 کے تحت اپیل دائرکی گئی ہے۔

موٹروےریپ کيس:سزا کیخلاف اپیلیں، متعلقہ فریقین کونوٹسزجاری،جواب طلب

 

مجرم عابد ملہی کوریپ کا جرم ثابت ہونے پرانسداد دہشت گردی کی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔عابد ملہی نےانسداد دہشت گردی کی عدالت کی سزاکوچیلنج کیا ہے۔

ملزمان کے خلاف تھانہ گجر پورہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔عابد ملہی اور شفقت بگا کے خلاف 20 فروری کو چالان داخل کیا گیا جبکہ فرد جرم 3 مارچ کو عائد ہوئی۔عدالت نے کیس کی 7 سماعتیں کیں۔ پراسکیوشن کےمطابق ملزمان کاڈی این اےجائےوقوعہ سےمیچ کرکےگرفتارکیاگیا اورملزم کومتاثرہ خاتون نےمجسٹریٹ کےسامنےشناخت کیا۔

عدالتی فیصلہ

عدالتی فیصلے کے مطابق استغاثہ کیس ثابت کرنے میں کامیاب رہا، دونوں ملزمان کو ریپ کی دفعہ 376 کے تحت سزائے موت، یرغمال بنانے کے جرم میں دفعہ 365 اے کے تحت عمرقید اور ڈکیتی کی دفعہ 392 میں 14، 14 سال قید کی سزائیں سنائی گئیں، ساتھ ہی مجرمان کی جائیداد ضبط اور 50، 50 ہزار جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔

عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ دونوں مجرمان کو جانے سے مارنے کی کوشش کے جرم میں دفعہ 440 کے تحت 5، 5 سال قید کی سزا، دفعہ 337 ایف ون میں 50، 50 ہزار روپے جرمانہ، 337 ایف 2 میں بھی 50، 50 ہزار جرمانہ  اور دفعہ 382 بی کے تحت تمام جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

وکیل صفائی کے دلائل

وکیل صفائی قاسم آرائیں نے بتایا کہ سی ڈی آر کے مطابق ملزم شفقت کی موجودگی ظاہر نہیں ہوئی۔ملزم شفقت علی عرف بگا کی شناخت پریڈ گرفتاری کے22 دن بعد کروائی گئی جبکہ قانون ملزم کی شناخت پریڈ ایک ہفتے میں مکمل کرنے کی گنجائش دیتا ہے۔

قاسم آرائیں کا کہنا تھا کہ ملزم شفقت علی سے دباﺅ کے تحت اقبال جرم کروایا گیا۔ملزم شفقت علی کو ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان قلمبند کروانے کیلئے فیئر ٹرائل کا حق نہیں دیا گیا اورقبول جرم کا بیان قلمبند کرواتے ہوئے مقدمہ کا تفتیشی افسر بھی عدالت میں موجود تھا۔ وکیل صفائی کا مزید کہنا تھا کہ قانون کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان قلمبند کرواتے ہوئے ملزم پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ہونا چاہئے۔

موٹروے گینگ ریپ:ملزمان کےخلاف فرد جرم عائد

انھوں نے یہ بھی کہا کہ جیل میں شناخت پریڈ کے دوران اسی اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو جیل کے اندر لایا گیا جو ملزم کو پہلے دیکھ چکا تھا۔ملزم کو پہلے سے دیکھنے والے اہلکار کے ذریعے متاثرہ خاتون کو شناخت پریڈ کی جگہ پر لانا شناخت پریڈ کی کارروائی کو مشکوک کرتا ہے۔انسداددہشت گردی عدالت کو شناخت پریڈ کا بھجوایا گیا ریکارڈ سربمہر نہیں تھا جبکہ ملزم عابد ملہی کی عمر دستاویزات میں 35 برس لکھی گئی جبکہ ملزم کی حقیقی عمر 20 برس ہے۔

پس منظر

واضح رہے کہ 9 ستمبر 2020ء کو منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور- سیالکوٹ موٹروے پر گجرپورہ کے علاقے میں 2 مسلح ملزمان نے خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا، جب وہ وہاں گاڑی بند ہونے پر اپنے بچوں کے ہمراہ مدد کی منتظر تھی۔ واقعے کی سامنے آنے والی تفصیل سے یہ معلوم ہوا تھا کہ لاہور کی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کی رہائشی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریباً 1 بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا۔

اسی دوران خاتون نے اپنے رشتے دار کو بھی کال کی تھی، جس نے خاتون کو موٹروے ہیلپ لائن پر کال کرنے کا کہا، جب کہ وہ خود بھی جائے وقوع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوگیا تھا۔

مدد کی منظر خاتون انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں کہ اسی دوران ملزمان وہاں آئے اور خاتون اور ان کے بچوں (جن کی عمر 8 سال سے کم تھی) بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔ بعد ازاں ان مسلح افراد نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے بعد وہ افراد جاتے ہوئے نقدی اور قیمتی سامان بھی لے گئے۔

جائے وقوع پر پہنچنے والے خاتون کے رشتے دار نے اپنی مدعیت میں واقعے کا مقدمہ بھی تھانہ گجرپورہ میں درج کروایا تھا۔

ملزمان کی گرفتاری کیسے ہوئی

علاوہ ازیں 12 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے آئی جی پنجاب انعام غنی و دیگر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ واقعے کے مرکزی ملزم کی شناخت عابد علی کے نام سے ہوئی اور اس کا ڈی این اے میچ کرگیا ہے، جب کہ اس کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں، اس کے علاوہ ایک شریک ملزم وقار الحسن کی تلاش بھی جاری ہے۔

بعد ازاں 13 ستمبر کو شریک ملزم وقار الحسن نے سی آئی اے لاہور میں گرفتاری دیتے ہوئے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی تھی۔ 14 ستمبر کو وزیراعلیٰ پنجاب نے بتایا کہ خاتون کے ریپ میں ملوث ملزم شفقت کو گرفتار کرلیا، جس کا نہ صرف ڈی این اے جائے وقوع کے نمونوں سے میچ کرگیا بلکہ اس نے اعتراف جرم بھی کرلیا ہے۔

ستمبر کی 15 تاریخ کو کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے سیالکوٹ موٹر وے پر دوران ڈکیتی خاتون سے زیادتی کے ملزم کو 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ بعد ازاں موٹروے زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد ملہی کو 12 اکتوبر کو فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔

ملزم عادی مجرم تھا

گینگ ریپ کے واقعے کے ملزمان کی نشاندہی کے چند روز بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کی تحقیقات میں پیشرفت سے متعلق بتاتے ہوئے کہا تھا کہ عابد علی بہاولنگر کے علاقے فورٹ عباس کا رہائشی ہے، ملزم کے گھر پر چھاپے کے دوران عابد اور اس کی بیوی کھیتوں میں فرار ہوگئے، اس کی بچی ہمیں ملی ہے۔ 4 رکنی گینگ کا سربراہ عابد پنجاب کے مختلف تھانوں میں درج 10 دیگر مقدمات میں بھی پولیس کو مطلوب تھا۔

پولیس نے 21 اکتوبر کو بتایا کہ کیمپ جیل میں ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل مکمل کیا گیا جہاں متاثرہ خاتون نے ملزم کی شناخت کرلی۔

ملزمان کا اقبالِ جرم

ملزم شفقت عرف بگا نےجوڈیشل مجسٹریٹ رحمان الٰہی کے روبرو دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے اقبال جرم کیا تھا۔دوسری جانب ملزم عابد ملہی نے تفتیشی افسر کے روبرو اعتراف جرم کیا اور دفعہ 161 کا بیان ریکارڈ کروایا، ملزم عابد ملہی نے خاتون کو 2 مرتبہ جبکہ شفقت نے ايک مرتبہ ریپ کا نشانہ بنایا۔چالان ميں کہا گيا ہے کہ ملزمان عابد ملہی اور شفقت کا ڈی این اے میچ کرچکا ہے۔

موٹروے ریپ کیس: 200صفحات پر مشتمل چالان عدالت میں جمع

 

واقعے میں ملوث ایک ملزم شفقت عرف بگا نے خود ہی گرفتاری دیدی تھی جبکہ دوسرا ملزم عابد ملہی ایک ماہ تک روپوش رہا اور آخر کار فیصل آباد سے گرفتار ہوگیا تھا۔ان کےخلاف تھانہ گجرپورہ نےمقدمہ درج کیا۔

 

سی سی پی او کا متنازع بیان

واقعے کے بعد اس وقت کے سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے متنازع بیان سے ایک نئی بحث شروع ہوگئی، عمر شیخ کے بیان کی عوام، سول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شدید مذمت کی اور انہیں عہدے سے ہٹانے کا مطالب کیا۔ بڑھتے دباؤ پر بعد ازاں سی سی پی او لاہور کو عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کے بعد میڈیا کے سامنے عمر شیخ نے اپنے بیان پر معافی بھی مانگی تاہم یہ بھی کہہ ڈالا کہ ان کا وہ مطلب نہیں تھا ، جس میڈیا میں پیش کیا گیا۔

Tabool ads will show in this div