حکومت کا ٹیکس پر دی گئی چھوٹ ختم کرنے کا اعلان

منی بجٹ نہیں ریفارم بجٹ لا رہے ہیں

ترجمان وزارت خزانہ مزمل اسلم کا کہنا ہے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا رہے، تاہم ٹیکس کی مد میں دی گئی چھوٹ کو واپس لے رہے ہیں، گیس کی قلت پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ماضی میں گیس کے بے دریغ استعمال کے باعث گیس کی کمی کا سامنا ہے۔

کراچی میں گورنر سندھ کے ہمراہ مشترکا پریس کانفرنس سے خطاب میں ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس اہداف 3سو ارب سے زیادہ حاصل کیا ہے، ملک میں ٹٰیکس وصولی کا نظام بہتر بنا رہے ہیں۔

منی بجٹ سے متعلق اطلاعات پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ہم کوئی نیا ٹیکس نہیں لگا رہے، اور نہ ہی منی بجٹ لا رہے ہیں، یہ ریفارم بجٹ ہوگا، تاہم جن چیزوں پر چھوٹ دی گئی تھی، ان کو واپس لے رہے ہیں، جیسے لوگ باہر سے سائیکل، آئی فون، مشین، را مٹیریل اور دیگر اشیا منگواتے ہیں، ان تمام اشیا پر دی گئی چھوٹ واپس لے رہے ہیں۔

میڈیا سے گفتگو میں ترجمان نے تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ درآمدی اشیا جیسے تیل گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، تاہم حکومت مہنگائی کو کم کرنے کیلئے جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے، فکسڈ تنخواہ والے مہنگائی سے پریشان ہیں، تاہم کھانے پینے کی چیزوں پر حکومت قیمت نیچے لائی ہے۔

ملک میں بڑھتے گیس بحران پر ان کا کہنا تھا کہ گیس نہ آنے کی وجہ ماضی میں گیس کا بےجا استعمال ہے، حکومت کی کوشش ہے کہ گيس کی فراہمی کو يقينی بنايا جائے، چند مہينوں ميں گيس کی کمی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا اور ٹيکسٹائل انڈسٹری کا تنازع چل رہا ہے، ٹیکسٹائل والوں کا کہنا تھا کہ عام صارفین کی گیس روک کر ہمیں دیں، حالانکہ انہیں عام صارف سے زیادہ سستی گیس مل رہی ہے، اندازہ ہے کہ گیس سلینڈر مہنگا ہے، ایک گیس سلنڈر پورے مہینے کے بل کے برابر ہوتا ہے۔

انہوں نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ چند مہینے مشکل کے ہونگے، حکومت کوشش کر رہی ہے کہ کسی کو ناجائز سستی گیس نہ جائے اور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔

Tabool ads will show in this div