بنگالیوں کا مسئلہ: پاکستان میں پیداہونے کے باوجود بے وطن

کیسے کراچی کے بنگالی بولنے والے پیدائشی حق شہریت سے محروم
Dec 18, 2021
[iframe width="100%" height="435" frameborder="0" scrolling="no" marginheight="0"marginwidth="0" src="https://www.youtube.com/embed/2YGVggUyoPo"]

نیشنل ایلین رجسٹریشن اتھارٹی (نارا) نے 2021ء میں ایک نیا اصول متعارف کروایا تھا، جس کے تحت اگر آپ پاکستان میں اپنا اندراج اجنبی کی حیثیت سے کروائیں گے تو آپ کو کام کرنے کے حقوق سمیت اپنے نام کی سِم کارڈ اور بینک اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہوگی۔

اس کے علاوہ، آپ پرائیویٹ تعلیم حاصل کرنے سمیت پرائیویٹ اسپتالوں میں علاج بھی کروا سکتے ہیں لیکن آپ کو بیرون ملک سفر کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا اور نہ آپ ووٹ ڈال سکیں گے۔

حکومت کے نزدیک یہ ان لوگوں کے لیے ایک پرکشش آپشن ہوگا جن کے پاس پاکستان میں کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ نہیں ہے، جس میں بنگالی زبان بولنے والے افراد شامل ہیں۔

بہرحال، یہ غلط تھا کیونکہ وہ ایسا نہیں چاہتے تھے اور کوئی بھی اپنی پہچان اجنبی کی حیثیت سے نہیں کروانا چاہتا۔

ایک اندازے کے مطابق کراچی اور اس کے مضافات میں 30 لاکھ بنگالی بولنے والے افراد 126 کمیونٹیز میں تقسیم ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ کس طرح رہتے ہیں اور ریاست کی طرف سے کھینچی گئی ریڈ لائنز کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں جو ان کی شہریت کی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتی۔

کراچی کی مچھر کالونی میں تقریباً 8لاکھ افراد رہتے ہیں جس میں 60فیصد آبادی بنگالی زبان بولنے والی ہے جبکہ ان میں سے تقریباً 4لاکھ افراد کی شہریت نہیں ہے، لیکن انہیں یہ حیثیت کیسے ملی اس سے متعلق تاریخ بالکل مختلف کہانی بتاتی ہے۔

کچھ بنگالی بولنے والے خاندان پہلے سے ہی پاکستان میں رہتے تھے جبکہ بہت سارے بنگالی 1971 میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد پاکستان آئے۔ 1952 سٹیزن ایکٹ کو بعد میں ضروریات کے مطابق اپ ڈیٹ بھی کیا گیا، جس کے بعد قانون میں کہا گیا کہ 1971 سے پہلے مغربی پاکستان میں رہنے والا کوئی بھی بنگالی بولنے والا شخص شہریت کا حقدار ہے۔

سن 1973 تک، اس وقت کے وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو نے مغربی پاکستان سے آنے والوں کو تارکین وطن کے طور پر مینول قومی شناختی کارڈ (ایم این آئی سی) فراہم کرنے کا نظام شروع کیا۔ تاہم، تین دہائیوں بعد پالیسی بدل گئی جس کے بعد مشکلات شروع ہوئی۔

نارا اور بنگالی بولنے والوں کے خلاف تعصب

سن 1996 میں، اس وقت کے فرنٹیئر کانسٹیبلری کے انسپکٹر جنرل افضل علی شگری نے ’پاکستان میں غیر قانونی تارکین وطن اور افغان مہاجرین کی رپورٹ‘ کے عنوان سے ایک رپورٹ شائع کی، جس نے بنگالی بولنے والے لوگوں کی شناخت کے بحران پر گہرا اثر ڈالا۔

نوشین ایچ انور نے اپنے تحقیقی مقالے میں دلیل دی کہ افضل علی شگری کا مقصد پہلی بار امیگریشن پر ایک جامع قومی پالیسی تشکیل دینا تھا۔

بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت (1993-1996) کے دوران، حکام بنگلہ دیش سے آنے والے غیر دستاویزی مہاجرین کے ممکنہ خطرے سے پریشان تھے۔ حکام کا خیال تھا کہ وہ پاکستان کی معاشی خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں اور کراچی میں آبادیاتی عدم توازن پیدا کریں گے۔

افضل علی شگری نے اپنی رپورٹ میں تارکین وطن کو پاکستان کی اندرونی سلامتی کے لیے گہرا خطرہ قرار دیا، جو پاکستان کے شہریت کے قوانین میں کلیدی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے۔

اس کے بعد ایک نیا بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرایا گیا جس کا انتظام نادرا کے پاس تھا جبکہ نارا بھی اسی وقت قائم ہوا لیکن بعد میں نادرا میں ضم کر دیا گیا۔

مچھر کالونی میں شہریت نہ رکھنے والے افراد کے ساتھ کام کرنے والی وکیل اور امکان ویلفیئر آرگنائیزیشن کی ڈائریکٹر طاہرہ حسان نے وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’سن 2000 میں نادرا بنایا گیا اور اس کی چھتری تلے قومی ایلین رجسٹریشن قانون آیا، جس نے نارا کے نام سے ایک ادارے کو جنم دیا‘۔

اس کے بعد، نئی اتھارٹی نے بنگالی بولنے والوں کو جاری کئے گئے تمام شناختی کارڈز کو بلاک کرنا شروع کردیا۔

طاہرہ حسان کہتی ہیں کہ اس قانون کے نافذ ہونے کے بعد، بنگالی بولنے والی کمیونٹی کے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا جبکہ انہیں مجبور کیا گیا کہ وہ اپنی بائیو میٹرک تفصیلات نارا کو فراہم کریں اور جیسے ہی وہ نارا کے ساتھ رجسٹرڈ ہوئے ان کی شہریت منسوخ کر دی گئی۔

نارا کو 2015 میں ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت نادرا میں ضم کیا گیا۔

پیدائشی حق شہریت ایکٹ بے اثر کیوں رہا؟

شہریت کے حصول کے آدھے مسائل آئین کے تحت ختم ہو جانے چاہیئں کیونکہ آئین کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر شخص شہریت کا حامل ہے لیکن نابالغوں کو اجنبی کے طور پر رجسٹر کرنے کیلئے نارا کا قانون پیدائشی حق شہریت ایکٹ سے متصادم ہے۔

بنگالی بولنے والے لوگ جو پاکستان میں پیدا ہوئے انہیں شہریت دینے کے بجائے نادرا نے ان کے والدین کو جاری کردہ شناختی کارڈ بلاک کر دیے اور اب والدین کے شناختی کارڈ کے بغیر وہ اپنا شناختی کارڈ بھی حاصل نہیں کرسکتے۔

نادرا آرڈیننس 2000ء کے مطابق درخواست گزاروں کو اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف سیکریٹری داخلہ کے سامنے اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔ ان اپیلوں پر فیصلہ 40 دنوں کے اندر ہونا ہوتا ہے، لیکن بہت سے بنگالی بولنے والے لوگوں کیلئے یہ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار ہے۔

بنگالی بولنے والے خاندان سے تعلق رکھنے والے مخلص رجب علی نے اس مسئلے کو حل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اپنے خاندان کے قومی شناختی کارڈ کیلئے انہوں نے 6 ماہ کے دوران 100 سے زائد مرتبہ متعلقہ دفاتر کے چکر لگائے، تاہم ان کا کہنا ہے کہ میرے خاندان کے شناختی کارڈ ان بلاک نہیں کئے گئے۔

مخلص رجب علی کا کہنا ہے کہ اس کے بعد انہوں نے سندھ ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور نادرا کیخلاف ایک کیس کیا۔ عدالت نے نادرا کو ہدایت کی کہ ہمیں قومی شناختی کارڈ فراہم کئے جائیں تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ میں نے دوبارہ سندھ ہائیکورٹ سے رجو کیا اور نادرا کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ درج کرایا، میرا قومی شناختی کارڈ چند دن میں ان بلاک کردیا گیا۔

نارا نظام میں کئی شہری پھنس چکے ہیں کیونکہ وہ معلومات اور آگہی نہیں رکھتے تھے۔ وہ صرف ایک شناختی کارڈ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بہت سے لوگ یہاں ماہی گیر کے طور پر کام کرتے ہیں اور وہ نارا کارڈ کیلئے جواز رکھتے ہیں تاکہ وہ کام پر واپس سمندر میں جاسکیں تاہم نارا کارڈ رکھنے والوں کی پاکستانی شہریت ہمیشہ کیلئے منسوخ کردی گئی ہے، جب تک قانون میں ترمیم نہیں ہوجاتی۔

نادرا کو بنگالیوں سے کیا چاہئے؟

بنگالی زبان بولنے والے بلاک شدہ شناختی کارڈ کے حامل افراد کو فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کیلئے مشکل عمل سے گزرنا پڑتا ہے، یہ عمل اکثر امتیازی سلوک اور ذاتی تعصبات سے بھرا ہوتا ہے۔

بنگالی زبان بولنے والے سماجی کارکن عبدالقادر کہتے ہیں کہ ایک بار جب ہم نادرا کے مرکز میں داخل ہوتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ ہم بنگالی ہیں، تو وہ ان چیزوں کی فہرست سے شروع کرتے ہیں جو افسر ہم سے جمع کرانے کو کہتے ہیں، ہمیں اپنے والد، والدہ اور دادا، دادی کے شناختی کارڈ جمع کروانا ضروری ہے، اگر ہم ان دستاویزات کو جمع کرانے کا انتظام کرتے ہیں، تو ہم سے ان کا جائزہ لینے کیلئے انتظار کا کہا جاتا ہے، یہ جائزہ کسی شخص کی زندگی بھر تک جاسکتا ہے، یہ عمل کبھی ختم نہیں ہوتا۔

ثبوتوں کے مطالبے کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ جامع مسجد المعراج کے امام بصیر الدین ازراہ مذاق کہتے ہیں کہ اگر انہیں پتہ ہوتا کہ ان سے پاکستان میں موجود ہونے کے بارے میں اتنے ثبوت مانگے جائیں گے تو میرے دادا دادی اس دور کی ٹافیوں اور چاکلیٹوں کے ریپرز بھی سنبھال کر رکھ لیتے۔

بیشتر خاندانوں کے پاس دستاویزات نہیں ہیں اور تیس سال بعد انہیں پیش کرنے کیلئے کہنا ایک ایسا مطالبہ ہے جو ان خاندانوں کے چاہنے کے باوجود بھی پورا کرنا ممکن نہیں۔

Tabool ads will show in this div