ایس ای سی پی نے5 پراپرٹی کمپنیوں کو غیرقانونی قراردیدیا

ایس ای سی پی نے کمپنیوں کیخلاف انکوائری شروع کردی

سیکورٹیز ایکس چینج کمیشن آف پاکستان نے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کے نام پر عوام کو جھانسہ دینے کے الزام میں 5کمپنیوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

سیکورٹیز ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کی جانب سے غیر قانونی قرار دی گئی کمپنیوں میں ایکس اسٹیٹ ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی (ایکس اسٹیٹ بیٹا)، بیکن پرائیویٹ کمپنی(بیکن کراوڈ)، انٹرنیشنل ہاسپٹلٹی انویسٹمنٹ گروپ پرائیویٹ لمیٹیڈ(آئی ایچ آئی جی فریکشنز)،ڈاوٗپروف ٹیک پرائیویٹ لمیٹیڈاور نیو کاساپرائیویٹ لمیٹیڈ(نیو کاسا) شامل ہیں۔

ایس ای سی پی کی جانب سے کمپنیوں کو غیر قانونی قرار دے کر انکوائری شروع کی گئی ہیں جبکہ عوام کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ غیر قانونی اور جلعسازی میں ملوث کمپنیوں میں سرمایہ کاری سے گریز کرے۔

غیر قانونی قرار دی گئیں کمپنیوں کا طریقہ واردات 

ایس ای سی پی کی جانب سے غیر قانونی قرار دی گئی کمپنیاں اپنی آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے شہریوں کو ترغیب دے رہے ہیں کہ وہ ان کمپنیوں کے پراپرٹی میں سرمایہ کاری کی صورت میں ماہانہ کرائے کی مد میں اور پراپرٹی فروخت ہونے کی صورت میں اپنے سرمایہ کاری کے تناسب سے منافع حاصل کرسکتے ہیں۔

مذکورہ کمپنیوں کی جانب سے فریکشنز کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس کے تحت کسی بڑی سرمایہ کو چھوٹے چھوٹے یونٹس یا شیئرز میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ان یونٹس کی خرید وفروخت کے مطابق منافع دیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کسی انفرادی شخص کے لئے ایک کروڑ روپے کے فلیٹ کی خریداری ممکن نہیں ہے تو فلیٹ کے کل قیمت کو 5 ہزار حصوں میں تقسیم کرنے سے 2ہزار افراد مل کر ایک فلیٹ خرید سکتے ہیں۔

فریکشنز دراصل ہے کیا؟

سیکورٹیز ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے مطابق فریکشنز یا سیکورٹیز کا یہ طریقہ کار اسٹاک مارکیٹ سمیت کئی اور شعبوں میں استعمال ہوتا ہےاور فریکشنلائزیشن رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کا ایک جدید طریقہ کار ہے تاہم سرمایہ کاروں کے مفادات کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ایسی اسکیموں کو قوانین اور قواعد وضوابط کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے اور اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے اپنے ریگولیٹری فریم ورک کے تحت صرف دو کمپنیوں کو رئیل اسٹیٹ فریکشنلائزیشن کی اسکیموں کی اجازت دی ہے۔

ایس سی سی پی کے مطابق سیکورٹیز ایکٹ 2015 کے سیکشن 82(2) کے تحت ایس ای سی پی سے لائسنس حاصل کئے بغیر کوئی کمپنی سیکورٹیز کی فروخت نہیں کرسکتے اور ایسی کمپنیوں کو بند کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جاتی ہے۔

اعلامیے کے مطابق مذکورہ پانچ کمپنیوں کے خلاف ایس ای سی پی نے قانون کے تحت انکوائری شروع کردی ہے اور عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ یہ کمپنیاں ایس سی سی پی سے رجسٹریشن کا غلط اور غیر قانونی استعمال کرتے کررہی ہیں لہذا اپنا قیمتی سرمایہ ایسی اسکیموں میں لگانے سے گریز کرے۔

Tabool ads will show in this div