سپریم کورٹ: 1996سے99 تک برطرف ملازمین بحال،نظرثانی درخواستیں مسترد

جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا

Supreme Court

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/BPR-zulqarnain-iqbal.mp4"][/video]

سپریم کورٹ نے 38 وفاقی اداروں کے 6000 سے زائد برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا۔

 سپریم کورٹ نے چار ایک کی اکثریت سے برطرف ملازمین کی بحالی کے کیس کا فیصلہ سنایا، جسٹس منصور علی شاہ نے فیصلے سے اختلاف کیا۔عدالتی فیصلے میں نظر ثانی درخواستیں خارج کردی گئی ہیں۔

سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ 2010 کا قانون آئین سے متصادم ہے اور عدالت نے 1996 سے 1999 تک برطرف ہونے والے ملازمین کو بحال کردیا ہے تاہم عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ مس کنڈکٹ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین بحال نہیں ہونگے۔

وفاقی اداروں کے برطرف ملازمین کی بحالی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ، کل سنایا جائے گا

یہ بھی کہا گیا کہ ملازمین کو ان ہی گریڈز پر ہی بحال کیا جائے گا جس پر برطرفی ہوئی تھی، عدالت نے مکمل انصاف کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ملازمین کی بحالی کا حکم دیا۔عدالت نے کہا کہ جن ملازمین کی بھرتی کے وقت ٹیسٹ دینا لازمی تھا انہیں ٹیسٹ دینا پڑے گا۔

گزشتہ روز جسٹس عمر بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 14 دسمبر کو ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی اپیل پر سماعت کی تھی اوراٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو سیکنڈ ایمپلائز ایکٹ پر دلائل دینے کا ایک اور موقع دیا تھا۔

جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا تھا کہ اٹارنی جنرل اپنے دماغ میں یہ بات رکھیں کہ موجودہ کیس کا رنگ بدل چکا ہے، موجودہ کیس نظرِ ثانی ہے لیکن ہم نے نئے سرے سے قانون کی تشریح شروع کی، ملازمین کے کیس میں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے، یہ آرٹیکل 184 تھری کا اچھا کیس تھا لیکن مرکزی کیس میں اس کا اطلاق ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین اور آئینی حدود کی پابند ہے، عدالت 30 سال سے بھرتیوں کے طریقہ کار پر عمل درآمد کروا رہی ہے، اٹارنی جنرل صاحب تجاویز جانیں اور ملازمین جانیں، عدالت صرف قانون کو دیکھے گی، یقینی بنائیں گے کہ کوئی چور دروازے سے سرکاری ملازمت میں داخل نہ ہو سکے، یقینی بنائیں گے کہ آئینی اداروں میں کوئی غیر آئینی طریقے سے داخل نہ ہو۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت 2010ء کے قانون کو مختلف انداز سے دیکھے، قانون کو خلافِ ضابطہ برطرفیاں واپس لینے کے قانون کے طور پر پڑھا جائے، خلافِ ضابطہ برطرفیاں واپس لینے کے تناظر میں قانون کو دیکھنے سے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، قانون کو اس انداز میں پڑھنے سے ملازمین 1997ء والی سطح پر بحال ہو جائیں گے۔

پس منظر

واضح رہے کہ 17 اگست کو اپنی ریٹائرمنٹ کے روز سابق جسٹس مشیر عالم نے پیپلز پارٹی کے دور کے برطرف ملازمین (بحالی) آرڈیننس ایکٹ 2010 (سیرا) کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا تھا جس کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں اور ترقی ملی تھی۔

جسٹس مشیرعالم کی جانب سے تحریر کیے گئے 42 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین پر عدالت عظمی کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیپلزپارٹی نے 2010 میں اپنے دور حکومت میں ایکٹ 2010 کے تحت سینکڑوں ملازمین کو بحال کرتے ہوئی ترقیاں بھی دی تھیں۔

اس ایکٹ کے خلاف سول ایوی ایشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن، انٹیلی جنس بیورو، ٹریڈنگ کارپوریشن سمیت 72 اداروں کے ملازمین نے درخواستیں دائر کی تھی۔

ملازمین بحالی ایکٹ کو لاگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس ایکٹ کا مقصد 25 اداروں اور ان سے منسلک اداروں کے 9ہزار سے زائد ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا ہے جن کو 90 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھرتی کیا گیا تھا لیکن مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور حکومت میں انہیں برطرف کردیا تھا۔

اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 1997 میں اس وقت کی مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 1995 اور 1996 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کی گئی تمام تر بھرتیوں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کردیا تھا۔

ان ملازمین نے بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے گئے تھے لیکن وہ ججوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

یہی صورتحال ایک دہائی تک برقرار رہی تھی تاہم 2010 میں پیپلز پارٹی حکومت نے برطرف ملازمی بحالی ایکٹ متعارف کرایا تھا اور 2010 کے اواخر میں اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی تھی۔

بعدازاں حکومت کو ان ملازمین کو اداروں میں سمونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ متعدد وزارتیں صوبوں کو منتقل ہو چکی تھیں لیکن اس کے باوجود اس وقت کی حکومت نئی وزارتوں میں ان کی جگہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

سال 2011 میں قومی اسمبلی میں اس معاملے پر ہونے والی بحث میں ملازمین کی بحالی کو قومی خزانے پر بوجھ قررا دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان برطرف ملازمین کی بحالی سے قومی خزانے کو ماہانہ 2.4ارب روپے نقصان پہنچ رہا ہے۔

معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بحال ہونے والے کچھ ملازمین نے سینئر عہدے دینے کا مطالبہ کردیا اور پروموشن کے مطالبے کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی اور اس کے نتیجے اس وقت کے مستقل ملازمین کی پروموشن کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔

سال2012 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ کے ملازمین کی درخواست کی سماعت کرنے والے جسٹس محمد انور خان کانسی کو درخواست گزاروں نے بتایا تھا کہ ادارے میں 226 ملازمین کی بحالی سے ان کی پروموشن رک گئی ہے۔

اسی طرح کی ایک اور درخواست میں ملازمین نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر بحال ہونے والے ملازمین کو سینیر ہونے کے ناطے پروموشن دیا جائے گا تو ان تمام ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوگی جو پروموشن کے منتظر ہیں۔

Tabool ads will show in this div