متحدہ عرب امارات امریکا سے ایف35 طیارےکیوں نہیں خریدرہا؟ 

کڑی شرط کے پیش نظر معاہدہ پر بات چیت معطل 
Dec 16, 2021

واشنگٹن میں اماراتی سفارت خانے نے ایک بیان میں کہا کہ وہ امریکا کے ساتھ ہتھیاروں کی خریداری سے متعلق بات چیت معطل کردے گا تاہم دیگر معاملات پر ملاقاتیں شیڈول کے مطابق آگے بڑھیں گی۔ 

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا جدید دفاعی ضرورتوں کے لیے متحدہ عرب امارات کا ترجیحی فراہم کنندہ ہے اور مستقبل میں ایف35 طیاروں کے لیے بات چیت دوبارہ ہو سکتی ہے۔  

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کو 50 ایف 35 طیاروں کی مجوزہ فروخت کا معاملہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کے آخری سال میں سامنے آیا تھا۔ تئیس ارب ڈالر کے اس دفاعی معاہدے میں 18 جدید ڈرون سسٹم اور فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق یو اے ای حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ضروریات، آپریشنل پابندیوں اور لاگت اور فائدے وغیرہ پر غور کرنے کے بعد مجوزہ معاہدے کا ازسرنو جائزہ لیا گیا۔  

دونوں ممالک کے درمیان 23 ارب 37 کروڑ ڈالر کی مالیت کے اس مجوزہ دفاعی معاہدہ کے تحت امریکا کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو 50 ایف 35 جدید ترین جنگی طیارے، 18ایم کیو۔9 بی خود کار دفاعی نظام اور فضا سے فضا اور فضا سے زمین تک مار کرنے والے اسلحہ کی فروخت شامل تھی۔ 

متحدہ عرب امارات کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکا کی جانب سے یہ جاننے کا اصرار کہ ایف 35 طیاروں کو کس طرح اور کہاں استعمال کیا جاسکتا ہے ملک کی خود مختاری کی خلاف ورزی ہے۔ 

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ انتظامیہ مجوزہ فروخت پر کاربند ہے تاہم ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مشاورت جاری رکھیں کہ طیاروں کی حوالگی سے پہلے اور بعد میں یو اے ای کی ذمہ داریوں سے متعلق باہمی افہام و تفہیم ہو۔ 

جان کربی کا کہنا ہے کہ امریکی ساختہ فوجی سازوسامان کے استعمال کے بارے میں امریکی تقاضے پوری دنیا کے لیے ہیں صرف متحدہ عرب امارات کے لیے مخصوص نہیں اور ان پر کوئی بات نہیں ہو سکتی۔ 

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق معاہدہ میں امریکا ایسی شرائط پر اصرار کررہا ہے جس سے اس امر کو یقینی بنایا جاسکے گا کہ ایف 35 جنگی طیارے چینی جاسوسی کا شکار نہ بن سکیں۔