پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، کس کوریلیف ملے گا؟

کیا پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی ہوگی؟
Petrol فائل فوٹو

وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 رپے فی لیٹر تک کمی کی گئی ہے، تاہم دیکھنا یہ ہے کہ اس کمی سے عوام کو فائدہ ہوگا یا نہیں اور ریلیف کس کس کو ملے گا۔ ماہرین کہتے ہیں کہ 11 روپے فی لیٹر کمی کی توقع کی جارہی تھی، قیمت میں عالمی قیمتوں کے حساب سے کمی نہیں کی گئی۔

حکومت نے 16 دسمبر کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 7 روپے فی لیٹر تک کمی کی۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول 5 روپے فی لیٹر کمی سے 140.82 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 5 روپے سستا ہوکر 137.62 روپے فی لیٹر ہوگیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کا تیل 7 روپے فی لیٹر سستا کردیا گیا، جس کے نئے نرخ 109.53 روپے ہیں، جبکہ لائٹ ڈیزل بھی 7 روپے کمی سے 107.06 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہوگا۔

مزید جانیے: پیٹرولیم مصنوعات میں 7 روپے فی لیٹر کمی کا اعلان

قیمتوں میں کمی سے عوام کو کیا فائدہ ہوگا؟

معاشی ماہر سلمان احمد کا کہنا ہے کہ جب عالمی مارکیٹ میں آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اُس کا بوجھ فوری طور پر عوام پر ڈالا جاتا ہے، سپلائرز فوری طور پر قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام سے اضافی رقم وصول کرتے ہیں، اس کے برعکس اگر قیمتوں میں کمی آتی ہے تو سپلائرز قیمتوں میں فوری کمی نہیں کرتے، اس کی وجہ اُن کی اس بات سے لاعلمی ہوتی ہے کہ قیمتیں مزید کم ہوں گی یا ان میں اضافہ ہوگا، لہٰذا وہ قیمتوں میں کمی نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بسوں، رکشوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنیوالی عوام کیلئے حالیہ کمی کے بعد کرایوں میں کمی کا کوئی امکان نہیں تاہم وہ افراد جن کے پاس اپنی گاڑیاں ہیں، انہیں پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کی صورت میں ریلیف ملے گا۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں نجی کمپنیاں مختلف کوالٹی کی پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتی ہیں اور مناسب منافع رکھ کر بیچتی ہیں، امریکا میں ہر دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر مختلف معیار اور قیمت کی پیٹرولیم مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں، تقریباً ہر پمپ پر ریٹ مختلف ہوتا ہے، آپ جہاں سے بھی پیٹرول ڈلوانا چاہیں ڈلواسکتے ہیں، مقابلے کی فضاء قائم ہونے کی وجہ سے عوام کو سستا پیٹرول مل جاتا ہے۔

سماء ڈیجیٹل نے جب یہ سوال سعد ہاشمی سے پوچھا کہ یہ نظام پاکستان میں کیوں رائج نہیں ہوسکتا، اس پر اُن کا کہنا تھا کہ امریکا کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہوتا ہے، وہاں پاکستان کی نسبت بڑی نجی کمپنیاں ہیں جو آئل سپلائی کررہی ہے، علاوہ ازیں وہاں غیر اخلاقی طریقۂ کار نہیں ہے۔

 سلمان احمد کے مطابق پاکستان میں توانائی کے شعبے میں اسٹرکچر کے مسائل ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان تقریباً 80 فیصد آئل درآمد کرتا ہے۔

کیا پیٹرول کی قیمت میں مزید کمی ہوگی؟

ماہر  معاشیات ڈاکٹر سلمان احمد نے سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے قیمتوں میں کمی توقعات سے کم ہوئی ہے، یہ توقع کی جارہی تھی کہ قیمت میں تقریباً 11 روپے کی کمی ہوگی لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ یہ ممکن ہے حکومت قیمتوں میں کچھ روز بعد مزید کمی کرے۔

انہوں نے کہا کہ اومی کرون وائرس سے متاثر ہونیوالے افراد کی اگر تعداد بڑھتی ہے تو اس سے بین الاقوامی تجارت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں اشیاء کی طلب کم ہوجائے گی، ڈیمانڈ میں کمی اور سپلائی میں اضافے سے قیمتوں میں کمی آسکتی ہے لیکن صورتحال تاحال غیر یقینی ہے آیا کہ اومی کرون کے کیسز میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔

تجزیہ کار سعد علی کا بھی کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی میں تو اضافہ کرے گی تاہم پیٹرول کی قیمت میں جنوری میں 4 سے 5 روپے کی کمی کا امکان ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں میں کمی کا انحصار عالمی مارکیٹ پر ہے تاہم اس وقت صورتحال غیر یقینی ہے کہ عالمی مارکیٹ میں آئل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا یا نہیں۔

عالمی مارکیٹ میں خام آئل کی قیمت میں کمی

واضح رہے عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مسلسل کمی دیکھنے میں آرہی ہے اور ایک ماہ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 8 ڈالر فی بیرل کی کمی سے 72 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔

دوسری جانب جے پی مورگن کی جانب سے 2022ء میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں 125 ڈالر فی بیرل اور 2023ء میں قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔

گزشتہ 3 سال میں پیٹرول کی قیمت کتنی بڑھی؟

خیال  رہے پاکستان میں دسمبر 2008ء میں پیٹرول کی قیمت 90.97 روپے تھی جو تین سال میں تقریباً 54 روپے کے اضافے سے 145 روپے تک جاپہنچی۔

سلمان احمد کا کہنا ہے کہ 2018ء میں ڈالر کی قیمت تقریباً 100 روپے تھی جو اب 180 روپے تک جاپہنچی ہے کیونکہ پاکستان کا شمار بڑے پیمانے پر آئل درآمد کرنیوالے ممالک میں ہوتا ہے، جس کے باعث آئل کے درآمدی بل میں بھی اضافہ ہوا اور اس کا اثر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس سے پہلے بھی عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 70 ڈالر سے 80 ڈالر کی سطح پر پہنچ چکی ہیں لیکن چونکہ اُس وقت ڈالر کی قیمت کم تھی، عالمی قیمتوں میں اضافے کا اثر پیٹرول کی قیمت پر نہیں پڑا۔

اس حوالے سے آئی ایم ایف کی شرط کیا ہے؟

یاد رہے 22 نومبر کو مشیر خزانہ شوکت ترین نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جی ایس ٹی کے استثنیٰ ہٹانے ہیں، پیٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا گیا وہ تو ہم نہیں کرسکیں گے تاہم پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 30 روپے تک بڑھانی پڑے گی، یکمشت اضافے کے بجائے ہر ماہ 4 روپے اضافہ کیا جائے گا۔

Tabool ads will show in this div