وفاقی اداروں کےبرطرف ملازمین کی بحالی کاکیس،سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

پانچ رکنی بینچ نے سماعت کی

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بنایا جانے والا ایکٹ 2010 ایک خاص طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے تھا— فائل فوٹو: اے ایف پی

سپریم کورٹ نے 38 وفاقی اداروں کے 6000 سےزائد برطرف ملازمین کی بحالی سے متعلق کیس کا فیصلہ کرلیا۔

جمعرات کوجسٹس عمر بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی بینچ نے 14 دسمبر کو ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کے خلاف حکومت کی جانب سے دائر نظرثانی اپیل پر سماعت کی تھی اوراٹارنی جنرل خالد جاوید خان کو سیکنڈ ایمپلائز ایکٹ پر دلائل دینے کا ایک اور موقع دیا تھا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ اٹارنی جنرل اپنے دماغ میں یہ بات رکھیں کہ موجودہ کیس کا رنگ بدل چکا ہے، موجودہ کیس نظرِ ثانی ہے لیکن ہم نے نئے سرے سے قانون کی تشریح شروع کی، ملازمین کے کیس میں بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے، یہ آرٹیکل 184 تھری کا اچھا کیس تھا لیکن مرکزی کیس میں اس کا اطلاق ہو چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ آئین اور آئینی حدود کی پابند ہے، عدالت 30 سال سے بھرتیوں کے طریقہ کار پر عمل درآمد کروا رہی ہے، اٹارنی جنرل صاحب تجاویز جانیں اور ملازمین جانیں، عدالت صرف قانون کو دیکھے گی، یقینی بنائیں گے کہ کوئی چور دروازے سے سرکاری ملازمت میں داخل نہ ہو سکے، یقینی بنائیں گے کہ آئینی اداروں میں کوئی غیر آئینی طریقے سے داخل نہ ہو۔

کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ عدالت 2010ء کے قانون کو مختلف انداز سے دیکھے، قانون کو خلافِ ضابطہ برطرفیاں واپس لینے کے قانون کے طور پر پڑھا جائے، خلافِ ضابطہ برطرفیاں واپس لینے کے تناظر میں قانون کو دیکھنے سے اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، قانون کو اس انداز میں پڑھنے سے ملازمین 1997ء والی سطح پر بحال ہو جائیں گے۔

اپنے دلائل میں اٹارنی جنرل کا مزید کہنا تھا کہ ملازمین کی 1993ء سے 1996ء تک کی گئی بھرتیاں کسی نے چیلنج نہیں کی تھیں، یہ تعین کہیں نہیں ہوا کہ ملازمین کی بھرتیاں قانونی تھیں یا نہیں، بحالی کے قانون میں ملازمین کو اگلے گریڈ میں ترقی دی گئی تھی، عدالت قانون بحال کرتے ہوئے اگلے گریڈ میں ترقی نہ دے۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب آپ مفروضوں پر بات کر رہے ہیں، متعلقہ ادارے ہی اس بارے میں اصل صورتِ حال بتا سکتے ہیں۔

جواباً اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ کسی کی ترقی رک جاتی ہے تو وہ 6 ہزار ساتھیوں کے لیے قربانی دیدے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے 16 ہزار ملازمین کی برطرفی سے متعلق کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالتِ کی جانب فیصلہ 17 دسمبر کی صبح 11 بجے سنایا جائے گا۔

گزشتہ سماعت

گزشتہ سماعت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے تھے کہ حکومتی اقدامات میں شفافیت ہونی چاہیے۔

دوران سماعت پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ملازمین کی پیروی کرنے والے وکیل فیصل صدیقی نے کہا کہ عدالت قانون کالعدم قرار دیتے ہوئے بھی ملازمین کو تحفظ دے سکتی ہے، معلوم ہے عدالت مستقبل کے لیے کوئی غیرمناسب اصول وضع نہیں کرے گی۔

عدالتی حکم پر اٹارنی جنرل نے بدھ کے روز عدالت کے روبرو تجاویز پیش کیں۔ حکومت گریڈ ایک سے سات تک کے ملازمین کو بحال کرنے پر تیار ہوگئی ہے، جب کہ گریڈ آٹھ سے اٹھارہ والوں کے تین ماہ میں ٹیسٹ لینے کی آمادگی ظاہر کی گئی ہے۔ عدالت نے چھوٹے ملازمین 15 دمسبر کو ہی بحال کرنے کی استدعا مسترد کردی تھی۔

دسمبر 14 کو ہونے والی سماعت میں اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے سے 38 مختلف وفاقی اداروں کے 5947 ملازمین متاثر ہوئے۔ جس پر جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے کسی ملازم کو برطرف کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، صرف قانون کالعدم قرار دیا تھا۔

جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہوتی ہے، آرڈیننس کا دائرہ محدود ہوتا ہے، مارشل لاء دور کے علاوہ ہر آرڈیننس کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ آتا ہے، آرڈیننس کے تحت بحال ملازمین کو ایکٹ میں تحفظ نہیں دیا گیا، آرڈیننس کے تحت 2009 میں بحال ہونے والے اب تک کیسے برقرار رہ سکتے تھے؟ اور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین کو پارلیمنٹ کیسے بحال کر سکتی ہے؟۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ حکومتی تجاویز پر غور کرکے 16 دسمبر تک اپنی رائے دینگے، جب کہ جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ یہ پہلو بھی دیکھا جائے گا کہ تجاویز پر عمل سے عدالتی فیصلہ متاثر تو نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس کے تحت بحال ہونے والے ملازمین کو ایکٹ میں تحفظ نہیں دیا گیا، آرڈیننس کے تحت 2009 میں بحال ہونے والے اب تک کس طرح بحال رہ سکتے ہیں۔

پس منظر

واضح رہے کہ 17 اگست کو اپنی ریٹائرمنٹ کے روز سابق جسٹس مشیر عالم نے پیپلز پارٹی کے دور کے برطرف ملازمین (بحالی) آرڈیننس ایکٹ 2010 (سیرا) کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دے دیا تھا جس کے تحت بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتیں اور ترقی ملی تھی۔

جسٹس مشیر عالم کی جانب سے تحریر کیے گئے 42 صفحات پر مشتمل فیصلے میں عدالت نے قرار دیا تھا کہ ایکٹ 2010 کے ذریعے بحال ہونے کے بعد ریٹائر ہونے والے ملازمین پر عدالت عظمی کے فیصلے کا اطلاق نہیں ہوگا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ پیپلزپارٹی نے 2010 میں اپنے دور حکومت میں ایکٹ 2010 کے تحت سینکڑوں ملازمین کو بحال کرتے ہوئی ترقیاں بھی دی تھیں۔

اس ایکٹ کے خلاف سول ایوی ایشن، پاکستان ٹیلی کمیونیکشن، انٹیلی جنس بیورو، ٹریڈنگ کارپوریشن سمیت 72 اداروں کے ملازمین نے درخواستیں دائر کی تھی۔

ملازمین بحالی ایکٹ کو لاگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی حکومت نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس ایکٹ کا مقصد 25 اداروں اور ان سے منسلک اداروں کے 9ہزار سے زائد ملازمین کو ریلیف فراہم کرنا ہے جن کو 90 کی دہائی میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں بھرتی کیا گیا تھا لیکن مسلم لیگ(ن) نے اپنے دور حکومت میں انہیں برطرف کردیا تھا۔

اس معاملے کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب 1997 میں اس وقت کی مسلم لیگ(ن) کی حکومت نے 1995 اور 1996 میں پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں کی گئی تمام تر بھرتیوں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے ملازمین کو نوکریوں سے برخاست کردیا تھا۔

ان ملازمین نے بحالی کے لیے عدالت سے رجوع کیا تھا اور اس معاملے کو سپریم کورٹ تک لے گئے تھے لیکن وہ ججوں کو قائل کرنے میں ناکام رہے تھے۔

یہی صورتحال ایک دہائی تک برقرار رہی تھی تاہم 2010 میں پیپلز پارٹی حکومت نے برطرف ملازمی بحالی ایکٹ متعارف کرایا تھا اور 2010 کے اواخر میں اسے قومی اسمبلی اور سینیٹ دونوں سے منظور کرانے میں کامیاب رہی تھی۔

بعدازاں حکومت کو ان ملازمین کو اداروں میں سمونے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ متعدد وزارتیں صوبوں کو منتقل ہو چکی تھیں لیکن اس کے باوجود اس وقت کی حکومت نئی وزارتوں میں ان کی جگہ بنانے میں کامیاب رہی تھی۔

سال 2011 میں قومی اسمبلی میں اس معاملے پر ہونے والی بحث میں ملازمین کی بحالی کو قومی خزانے پر بوجھ قررا دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان برطرف ملازمین کی بحالی سے قومی خزانے کو ماہانہ 2.4ارب روپے نقصان پہنچ رہا ہے۔

معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب بحال ہونے والے کچھ ملازمین نے سینئر عہدے دینے کا مطالبہ کردیا اور پروموشن کے مطالبے کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی تھی اور اس کے نتیجے اس وقت کے مستقل ملازمین کی پروموشن کا معاملہ بھی کھٹائی میں پڑ گیا تھا۔

2012 میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹیڈ کے ملازمین کی درخواست کی سماعت کرنے والے جسٹس محمد انور خان کانسی کو درخواست گزاروں نے بتایا تھا کہ ادارے میں 226 ملازمین کی بحالی سے ان کی پروموشن رک گئی ہے۔

اسی طرح کی ایک اور درخواست میں ملازمین نے موقف اختیار کیا تھا کہ اگر بحال ہونے والے ملازمین کو سینیر ہونے کے ناطے پروموشن دیا جائے گا تو ان تمام ملازمین کی حوصلہ شکنی ہوگی جو پروموشن کے منتظر ہیں۔

Tabool ads will show in this div