پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی سوچ اجتماعی نہیں، خواجہ آصف  

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو 

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ان کا پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے ساتھ براہ راست واسطہ نہیں رہا لیکن وہ یہ بات جانتے ہیں کہ اس اتحاد میں شامل جماعتوں کی سوچ اجتماعی نہیں بلکہ انتشار کا شکار ہے کیوں کہ ہر پارٹی اپنے مفادات کو بالاتر رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ 

سماء کے پروگرام ندیم ملک لائیو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا اتحاد خصوصاً پارلیمنٹ کے فلور پر ضرور ہونا چاہیے لیکن پی ڈی ایم کی سوچ اس کے برخلاف ہے۔ 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ آصف علی زرداری معاملہ فہم سیاست دان ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کرتے ہیں اس کے پیچھے ان کے پارٹی کا مفاد وابستہ ہوتا ہے لہذا پی ڈی ایم کے رہنماؤں کو اس بات کا اندازہ لگا لینا چاہیے تھا کہ آصف زرداری سندھ حکومت کی قربانی کبھی نہیں دیں گے۔ 

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری نہ صرف سندھ حکومت کو قائم رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اگلی مرتبہ وہاں سے اسلام آباد بھی پہنچنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ زرداری کے سارے اقدامات اس نکتہ پر مرکز ہیں کہ وہ پی ڈی ایم کے ساتھ ایک حد تک تو ساتھ چلیں گے لیکن ہر معاملے پر نہیں۔ خواجہ آصف نے اس بات سے بھی اتفاق کیا کہ آصف زرداری ذہانت سے سیاست کرکے آر پار والے لیول تک معاملات نہیں لے کر گئے۔ 

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں ہمیں جتنا جلد ہوسکے پارٹی کی اندرونی تقسیم پر قابو پا لینا چاہیے اور شاہد خاقان عباسی کے بیان سے بھی پارٹی میں مثبت تاثر گیا ہے اور اس کے ذریعے گومگو کی کیفیت ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ 

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایک حکومتی وزیر نے لندن فون کرکے کہا تھا کہ ان کے پاس 12 اراکین اسمبلی ہیں جو ن لیگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب پارلیمنٹ میں اس حوالے سے بات کی گئی تو اس وزیر نے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ اس کا نام نہ لیا جائے۔ 

رہنما ن لیگ کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کے جوائنٹ سیشن میں ہمیں 203 ووٹ ملے تھے اور جو لوگ غیرحاضر تھے ان کے بھی حقیقی مسائل تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے مشترکا اجلاس میں حکومت کے 25 اراکین حکومت مخالف ووٹ دینے کے لیے تیار تھے مگر آخری وقت پر ان کو کال آئی کہ ابھی یہ قبل ازوقت ہوگا۔ 

انہوں نے کہا کہ وہ ایوان کے اندر تبدیلی کے خواہش مند ہیں جو ایک قانونی راستہ ہے اور یہ تبدیلی مارچ سے بھی پہلے آسکتی ہے۔ 

Tabool ads will show in this div