خیبرپختونخوا:بلدیاتی نمائندے کتنے با اختیار ہوں گے؟  

سترہ اضلاع میں پولنگ 19 دسمبر کو ہوگی 
Dec 19, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/KPK-LG-Elections-Virtual-17-12-AbD.mp4"][/video]

بلدیاتی نظام کو جمہوریت کی بنیاد کہا جاتا ہے اور کسی بھی جمہوری ملک میں بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ 

عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے لیے لوکل گورنمنٹ سسٹم کلیدی کردار ادا کرتا ہے اس نظام کی رسائی گلی محلہ کی سطح پر ہوتی ہے اور اس نظام میں چیک اینڈ بیلنس کا کام بھی گراس روٹ لیول تک آجاتا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر یہ بلدیاتی انتخابات 2 سال کی تاخیر سے منعقد ہورہے ہیں جس کا سیاسی پارٹیوں کی جانب سے کافی عرصے سے انتظار کیا جارہا تھا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں صوبے کے17 اضلاع میں پولنگ 19 دسمبر کو ہوگی جبکہ باقی 18 اضلاع میں پولنگ اگلے سال 16 جنوری کو ہوگی۔

خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں سیاسی سرگرمیاں زور و شور سے جاری ہیں اور انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کی کوشش ہے کہ وہ علاقے کے بااثر افراد اور گھرانوں کی حمایت حاصل کریں۔

پہلے مرحلے میں پشاور، نوشہرہ، کوہاٹ، ڈی آئی خان، لکی مروت، بونیر، باجوڑ، مردان، صوابی، کرک، بنوں، ٹانک، ہری پور، خیبر، چارسدہ، ہنگو اور مہمند میں انتخابات ہوں گے جن کے نتائج کا اعلان 24 دسمبر تک کر دیا جائے گا۔

قبائلی اضلاع میں بھی پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات منعقد کیے جا رہے ہیں اور انتخابات کے پہلے فیز میں ضلع باجوڑ، مہمند اور خیبر میں انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ باقی ضم اضلاع میں دوسرے مرحلے میں انتخابات منعقد کیے جائیں گے۔

الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق خیبرپختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کےلیے الیکشن کے دن ووٹر کو 6 مختلف رنگوں کے بیلٹ پیپرز دیے جائیں گے، تحصیل چیئرمین یا میئر کے امیدوار کے لیے سفید رنگ کا بیلٹ پیپر ہوگا۔

جنرل کونسلر کی نشست کے لیے سلیٹی رنگ، خواتین کی سیٹ کے لیے گلابی رنگ کا بیلٹ پیپر مختص کیا گیا ہے۔ کسان کونسلر کے لیے ہلکے سبز رنگ، یوتھ کے لیے زرد رنگ اور اقلیتی نشست کے لیے بھورے رنگ کے بیلٹ پیپرز ووٹر کو دیے جائیں گے۔

خیبرپختونخوا کے نئے بلدیاتی نظام کا ڈھانچہ  

نئے بلدیاتی نظام میں ضلع کونسل کو ختم کرکے سٹی لوکل گورنمنٹ اور ضلع ناظم کا عہدہ ختم کرکے میئر کردیا گیا ہے جبکہ تحصیل اور ولیج کونسل کو برقرار رکھا گیا ہے۔ یونین کونسل اور ضلع کی سطح پر اس بار انتخابات نہیں ہوں گے۔

یونین کونسل کی سطح پر ولیج یا نیبرہڈ کونسل اور تحصیل کی سطح پر تحصیل کونسل ہوگی۔ نیبر ہوڈ وہ کونسل ہے جو شہری علاقوں پر مشتمل ہے جب کہ ولیج کونسل دیہی علاقوں میں ہے۔

ہر کونسل میں جنرل سیٹوں کی تعداد 3 ہوگی اور خاتون، نوجوان، کسان کے لیے ایک ایک سیٹ ہوگی جبکہ اقلیتوں کے لیے بھی ایک نشست رکھی گئی ہے۔ اس طرح ایک کونسل میں کل ممبران کی تعداد 7 ہو گی۔ ولیج کونسل الیکشن  میں جو بھی پہلے نمبر پر آئے گا وہ ولیج ناظم کے ساتھ تحصیل اسمبلی کا رکن بھی ہوگا۔ ولیج نیبرہڈ کونسل اور تحصیل کونسل کے لیے انتخابات ایک ہی دن منعقد ہوں گے۔

 ڈویژنل ہیڈ کوارٹر  پشاور سٹی، مردان سٹی، ڈی آئی خان سٹی، کوہاٹ سٹی، بنوں سٹی میں میئر کا انتخاب ہوگا جبکہ تحصیل کونسل اور ولج نیبرہڈ کونسل کے لیے چیئرمین کے انتخابات ہوں گے۔

نئے لوکل گورنمنٹ بل کے تحت بلدیاتی نظام دو درجاتی ہوگا مقامی حکومتوں کا نظام سٹی لوکل گورنمنٹ، تحصیل اور ولیج کونسل پر مشتمل ہوگا۔ نئے ترمیمی بل کے تحت ناظمین اب چئیرمین کہلائیں گے اور تمام ڈویژنل ہیڈ کوارٹرزمیں سٹی لوکل گورنمنٹس بنائی جائیں گی۔

تحصیل چیئرمین کی نشست کے لیے الیکشن قومی انتخابات کی طرح براہ راست ہوگا یعنی پوری تحصیل کونسل میں جتنے ووٹر رجسٹرڈ ہیں وہ تحصیل چیئرمین کو ووٹ ڈالیں گے تاہم ڈپٹی میئر یا ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب کونسل کے ممبران کے ووٹوں سے ہوگا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق آزاد ممبران کے جیتنے کی صورت میں کسی پارٹی میں شمولیت یا آزاد حیثیت برقرار رکھنے کےلیے تین دن دیے جائیں گے۔

صوبہ خیبر پختونخوا کے 17 اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں مکمل ہیں ان انتخابات میں 66 تحصیل اور میئر نشستوں اور تقریباً 2 ہزار سے زائد ولیج کونسلز کےلیے مجموعی طور پر 37 ہزار سے زیادہ امیدوار میدان میں ہیں۔

تحصیل چیئرمین شپ کے 66 نشتوں کےلیے 700 امیدواروں میں سے صرف تین خواتین میدان میں ہیں جبکہ صرف ایک سیاسی جماعت قومی وطن پارٹی نے ہی ایک خاتون کو ٹکٹ دیا ہے اس کے علاوہ کسی سیاسی پارٹی نے تحصیل چیئرمین شپ کےلیے کسی خاتون کو ٹکٹ نہیں دیا۔

الیکشن کمیشن کے مطابق ویلج کونسل کے سطح پر دو ہزار 32 امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے ہیں جس میں جنرل نشستوں پر 217، خواتین 800، کسان کونسلر 285، یوتھ کونسلر 500 اور اقلیتی نشستوں پر 154 امیدوار شمل ہیں۔

الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 2 کروڑ 6 لاکھ 11 ہزار ہے اور چونکہ صوبے میں بلدیاتی الیکشن دو مراحل میں میں منعقد ہورہا ہے اس لیے 19 دسمبر کے الیکشن میں تقریباً ایک کروڑ سے زائد افراد ووٹ دینے کے اہل ہوں گے۔

بلدیاتی نمائندوں کے پاس کتنے اختیارات ہوں گے؟  

خیبر پختونخوا کے 2015 کے ایکٹ کے تحت 23 محکمے مقامی حکومتوں کے ماتحت تھے لیکن اب اس میں ترمیم کرکے اداروں کی تعداد میں کمی لائی گئی ہے اور اب 10 محکمے مقامی حکومتوں کے تحت کیے گئے ہیں جبکہ مقامی حکومتوں کو صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد فراہم کیا جائے گا۔

تحصیل ناظم کو پرائمری ایجوکیشن، سماجی بہبود، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ، اسپورٹس، کلچر، لائیو اسٹاک، سوشل ویلفیئر، پاپولیشن، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اور دیہی ترقی کے محکمے تفویض ہوں گے۔

تحصیل لوکل کونسل چیئرمین کے اختیارات  

چِیئرمین پوری تحصیل کی ترقی کیلئے روڈ میپ فراہم کرے گا۔

چئیرمین انفراسٹرکچر ڈولپمنٹ اور سروس ڈیلوری کی بہتری کے لیے ٹائم فریم فراہم کرے گا۔

بوقت ضرورت تحصیل چِیئرمین ضلعی انتظامیہ کے ساتھ کوآرڈینیٹ کرے گا۔

چِیئرمین سالانہ ترقیاتی پروگرام بنانے اور اس پر عملدرآمد کا نگران ہوگا۔

تحصیل کونسل میں سالانہ بجٹ چیئرمین تحصیل پیش کرے گا۔

تحصیل لوکل گورنمٹ کی ششماہی کارکردگی رپورٹ بھی ہاؤس میں چیئرمین پیش کرے گا۔

تحصیل کی سطح پر سرکاری دفاتر کی نگرانی بھی چیئرمین کے اختیارات میں شامل ہوگی۔

جو ادارے تحصیل لوکل گورمنٹ کے ماتحت نہیں ان کی سہ ماہی رپورٹ بھی ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ صوبائی محکموں کو بھیجنا چیئرمین کی اتھارٹی میں شامل ہے۔

تحصیل لوکل ایڈمنسٹریشن کے ذریعے مارکیٹ اور سروسز کو ریگولیٹ کرنا۔

میونسپل قوانین کے خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کےلیے آفیسرز کو تحصیل چیئرمین سے اجازت لینی ہوگی۔

ماتحت اداروں کے آفیسرز کو ایکزگیٹوں آرڈر کے تحت ڈسچارچ کرنا بھی چیئرمین کے اختیارات میں شامل  ہوگا۔

تحصیل لوکل ایڈمنسٹریشن کے اہلکاروں کے خلاف انضباتی کارروائی  کی سفارش کرنا بھی چِیئرمین کے اختیارات میں شامل ہوگا۔

عارضی غیر حاضری کے وقت ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی چیئرمین کے ذمہ ہوگا۔ 

تحصیل کونسل کے کام اور اختیارات

چیئرمین تحصیل کونسل کے ذریعے ٹیکس اور جرمانوں کی منظوری

سروس ڈیلوری کے لیے ضمنی قوانین یا ضابطہ اخلاق کی منظوری

سالانہ بجٹ، چیئرمین کی جانب سے تجویز کردہ قلیل اور طویل مدت کے منصوبوں کی منظوری

تحصیل کونسل میونسپل اور تحصیل بیسڈ آفیسز کے لیے قائمہ کمیٹی منتخب کرے گی۔

ٹیکسوں کی جانچ پڑتال اور بجٹ تجاویز کے لیے فنانس کمیٹی بھی تحصیل کونسل منتخب کرے گی۔

اکاؤنٹس کمیٹی، کنڈکٹ آف بزنس کمیٹی، کوڈ آف کنڈکٹ کمیٹی تحصیل کونسل منتخب کرے گی۔

تحصیل کونسل اکاؤنٹس کمیٹی کی رپورٹس اور تجاویز کی جائزہ لے گی۔

میئر کے اختیارات کیا ہوں گے ؟  

پبلک ٹرانسپورٹ، ماس ٹرانزٹ سسٹم، ایکسپریس ویز کی تعمیر، فلائی اوورز، پل، سڑکوں اور انڈر پاسز کی تجاویز کی منظوری میئر کے فنکشنز میں شامل ہوں گی۔

سیورج، ٹریٹمنٹ پلانٹس،فلڈ کنٹرول پروٹیکشن، اسپتال، ویسٹ منیجمنٹ، تفریح گاہیں اور لائبریریز بھی مئیر کے ماتحت کام کریں گی۔

شہر کی تزین و آرائش، مختلف یادگاری مقامات، کمیونٹی سنٹرز بھی مئیر کے پاس ہونگے۔

ولیج کونسلر یا نیبرہڈ کونسلز کے اختیارات  

ولیج کونسل کی سطح پر ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد اور مانیٹرنگ

متعقلہ ویلج کونسل میں ضروری ترقیاتی کاموں کی نشاندہی

پیدائش، اموات، شادی اور طلاقوں کی رجسٹریشن

وی سی یا این سی لیول پر کھیلوں اور ثقافتی ایونٹس کو ترتیب دینا اور اسپاسنر کرنا

ولیج سطح پر مویشی منڈی اور شوز آرگنائز کرنا

سروس فراہمی کے اداروں کی مانیٹرینگ اور ان سے متعلق رپورٹس تحصیل چیئرمین کو بھیجنا

سوشل انڈیکیٹر کے حوالے سے اعداد وشمار اکٹھا کرنا

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ضلعی ناظم مردان حمایت اللہ مایار کا کہنا تھا کہ موجودہ بلدیاتی نظام انتہائی کمزور ہے جبکہ سن 2015 والا بلدیاتی نظام بھی اس سے تھوڑا ہی بہتر تھا۔

حمایت اللہ مایار کا کہنا تھا سابق صدر پرویز مشرف ایک ڈکٹیٹر تھے اور ہم نے ان خلاف جدوجہد بھی کی ہے مگر ملک میں حقیقی بلدیاتی نظام صرف اس وقت نافذ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اختیارات کی بات تو اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب انہوں نے ضلعی حکومت اور یونین کونسلز کو ہی حتم کردیا۔

رہنما اے این پی کا کہنا تھا کہ سن 2001 کے نظام میں ضلع کا چیف ایگزیکٹیو ضلعی ناظم ہوا کرتا تھا اور اس کے دائرہ اختیار میں ہائرایجوکیشن سمیت 28 ادارے آتے تھے مگر تحریک انصاف نے اپنے پہلے دور حکومت میں ضلعی ناظم کے ماتحت اداروں کو 24 کردیا اور اس بار صرف 12 ادارے تحصیل چیئرمین یا میئر کے ماتحت رہ گئے ہیں۔

حمایت اللہ مایار کا مزید کہنا تھا کہ پچھلے بلدیاتی نظام میں قانوناً صوبائی ترقیاتی بجٹ کا 30 فیصد بلدیاتی حکومتوں کو ملنا ضروری تھا مگر اس بار اس 30 فیصد کو بھی صوبائی حکومت کی منظوری سے مشروط کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمزور بلدیاتی قانون کے باوجود اب تک رولز آف بزنس نہیں بن سکے اور اگر تحریک انصاف یہ انتخابات ہارتی ہے تو اس صورت میں خدشہ ہے کہ یہ لوگ کمزور رولز بناکر مزید نظام کو کمزور کردیں گے۔

رہنما عوامی نیشنل پارٹی کا کہنا تھا کہ اگر کسی کو بلدیاتی حکومت کا سربراہ بنایا جائے تو اس کے پاس بھی اختیارات بھی ہوں ورنہ وہ ڈیلیور نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی اور تحصیل انتظامیہ تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کے ماتحت ہوتے ہیں وہ بلدیاتی نمائندوں کے ساتھ تعاون کیوں کریں گے وہ بھی اس صورت میں جب قانون میں بھی ایسی کوئی بات نہ لکھی ہو۔

حمایت اللہ مایار کا کہنا تھا کہ اس وقت تمام صوبائی اور وفاقی وزراء تحریک انصاف کے امیدواروں کے لیے الیکشن مہم میں مصروف ہے اور سرکاری وسائل کا استعمال کیا جارہا ہے باوجود اس کے ہم الیکشن کمیشن کو ویڈیوز بھیجتے رہتے ہیں الیکشن کیمشن کی جانب سے مناسب کارروائی نہیں کی جارہی اور جو کارروائیاں کی گئی ہیں وہ ناکافی ہیں۔

واضح رہے کہ صوبہ میں پچھلے 8 سال سے برسراقتدار جماعت تحریک انصاف کے علاوہ پیپلزپارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علماء اسلام ف ، عوامی نیشنل پارٹی اور جماعت اسلامی کے علاوہ قومی وطن پارٹی کے امیدوار بھی میدان میں ہیں۔ تاہم اکثریتی بلدیاتی حلقوں میں تحریک انصاف، عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علماء اسلام ف کے امیدواروں کے درمیان کانٹے کے مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔

مبصرین کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ محکمہ بلدیات انتخابات کے فوری بعد دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر منتخب نمائندوں کو ذمہ داریاں سونپ دی جائیں تاکہ عوام کو خدمات کی فراہمی اور منتخب عوامی نمائندوں کو ایک عرصے تک اپنے دفاتر اور دیگر امور سے متعلق سرکاری اعلامیوں کا انتظار نہ کرنا پڑے۔ 

Tabool ads will show in this div