ٹائیفائیڈ کیلئے 'ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ' کے نتائج قابل بھروسہ نہیں، طبی ماہرین

حکومت سے ٹیسٹ پر پابندی کا مطالبہ کردیا
Dec 15, 2021

ماہرینِ صحت نے متنبہ کیا ہے کہ ملک میں ٹائیفائیڈ کے لیے کیے جانیوالے ٹیسٹ 'ٹائیفی ڈاٹ' کے نتائج قابل بھروسہ نہیں ہیں اور ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے اس ٹیسٹ پر پابندی کا مطالبہ کردیا۔

طبی ماہرین کا مزید دعویٰ ہے کہ صحت کے عالمی ادارے سمیت کئی مستند ادارے اس ٹیسٹ کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور 'ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ' کے نتیجے میں عام بخار کو ٹائیفائیڈ قرار دے کر اینٹی بائیوٹک کا بے جا اور غلط استعمال کیا جاتا ہے اور اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کا سبب بنتا ہے۔

اس حوالے سے انڈس اسپتال کی متعدی امراض کی ماہر ڈاکٹر نسیم صلاح الدین نے سما ڈیجیٹل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں چھوٹے کلینکس کی بھرمار ہے جو معمولی نوعیت کے بخار کی صورت میں ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ لکھ دیتے ہیں اور ایسی درجنوں لیبارٹریز ہیں جو یہ ٹیسٹ کر رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹائیفائیڈ کی تشخیص کے لیے کیے جانے والے 'ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ' فالس پازیٹو آتا ہے جس کے نتائج قابل بھروسہ نہیں ہوتے، اس ٹیسٹ کی بنیاد پر ٹائیفائیڈ بخار سمجھ کر اینٹی بائیو ٹک ادویات دینا شروع کردیتے ہیں جس کی وجہ سے اینٹی بائیوٹک ادویات کے خلاف مزاحمت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی اس کے نتیجے میں لیبارٹریز اور کلینکس پیسے بنا رہے ہیں۔
ڈاکٹر نسیم صلاح الدین کا کہنا تھا کہ دوسری جانب یہ ادارے مریضوں کی صحت سے کھیل رہے ہیں جبکہ عالمی ادارہ صحت اور مائیکروبیالوجی اینڈ انفیکشس ڈیزیز سوسائٹی آف پاکستان اس ٹیسٹ سے منع کر چکے ہیں لیکن کچھ لیبارٹریز اور ڈاکٹرز مسلسل مریضوں کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہر سال ٹائیفائیڈ بخار کے لاکھوں مریض رپورٹ ہو تے ہیں، 2016 سے پاکستان میں اینٹی بائیو ٹک ادویات کے خلاف مزاحمت کے کیسز بڑھ رہے ہیں، اگر کسی کو ایک ہفتے سے زیادہ بخار میں ہوگئے ہیں اور وہ نہیں ٹوٹ رہا تو ایسے میں بلڈ کلچر ٹیسٹ سے ٹائیفائیڈ کی درست تشخیص ہوتی ہے۔
علاوہ ازیں جناح اسپتال کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد انعام خان نے اسے معاملے پر سما ڈیجیٹل سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ کراچی سے خیبرپختونخوا تک ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ کنڈیکٹ کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری کلینکل بکس میں اس کی کوئی ریکومنڈیشن موجود نہیں ہے، یہ ٹائیفائیڈ کی تشخیص کا ٹیسٹ نہیں ہے اور اتائی اور بعض ہمارے جرنل پریکٹشنرز جانتے بوجھتے یہ ٹیسٹ کرواتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ 99 فیصد کیسز میں پازیٹو آتا ہے اور فالس پازیٹو ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں مریض کا ٹائیفائی کا علاج شروع ہوجاتا ہے جبکہ نہ اسے ٹائیفائیڈ کی علامات ہیں حالانکہ یہ ٹائیفائیڈ کا ٹیسٹ نہیں ہے۔

ڈاکٹر محمد انعام کا کہنا تھا کہ اس غلط تشخیص کے نتیجے میں مریض کو ایک دو ہفتے تک سیفٹرائیزون ( ceftriaxone ) کے انجکشن لگاتے ہیں، ایک قیمتی دوا ہے اور اس کے زیادہ استعمال سے اب اس دوا کے خلاف بھی مزاحمت بڑھ رہی ہے یا یہ دوا اپنا اثر کھو رہی ہے۔
انہوں ںے کہا کہ گزشتہ برسوں سے ٹائیفائیڈ ریزسٹنس کے کیسز بڑھ رہے ہیں اور اسی ٹائیفی ڈاٹ ٹیسٹ اور اینٹی بائیوٹک ادویات کے غلط استعمال کی وجہ سے ٹائیفائیڈ کے خلاف مزاحمت کے کیسز بڑھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نامور لیبارٹریز نے اس ٹیسٹ پر پابندی لگا رکھی ہے لیکن چھوٹی لیبارٹریز اور کلینکس یہ ٹیسٹ کر رہے ہیں، حکومت کو چاہیے کہ وہ اس پر پابندی عائد کرے ان کٹس کی درآمدات پر پابندی لگائے۔
انہوں ںے مزید کہا کہ اتائیوں کا کاروبار اس ٹیسٹ پر چل رہا ہے، اس پر پابندی سے اینٹی بائیوٹک کا جو غلط استعمال ہو وہ رک جائے گا، مریضوں کا غلط علاج رک جائے گا۔

ڈاکٹر محمد انعام خان نے یہ بھی بتایا کہ اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے ہمارے پاس چوائسز بھی کم ہیں اور اگر ایسی مزاحمت بڑھی تو پھر جو رہی سہی ادویات ہوں وہ بھی اثر کرنا چھوڑ دیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اتائیوں کے خلاف آپریشن کرے، شہر میں اتائی بڑھتے جا رہے ہیں جو عوام کو بے وقف بنا رہے ہیں۔

Tabool ads will show in this div