38وفاقی اداروں کے برطرف ملازمین کا فیصلہ16دسمبر کو متوقع

اٹارنی جنرل نےتجاویز پیش کیں

سپریم کورٹ میں 38 وفاقی اداروں کے 6 ہزار کے قریب برطرف ملازمین سے متعلق فیصلہ 16 دسمبر کو سنایا جائے گا۔

برطرف سرکاری ملازمین کی بحالی یا نوکری ختم ہونے سے متعلق سپریم کورٹ فیصلہ کل سنائے گی، اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وزیراعظم عمران خان کی مشاورت سے تیار تجاویز پیش کیں۔

اٹارنی جنرل نے گریڈ ایک تا 7 کے ملازمین کو بحال کرنے،گریڈ 8 سے 17 تک کے ملازمین کا 3 ماہ میں فیڈرل پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ٹیسٹ لینے کی سفارش کی ہے۔ اس وقت تک یہ ملازمین ایڈہاک تصور کیے جائیں گے۔

اٹارنی جنرل نے دوران سماعت کہا کہ عدالتی فیصلے سے 38 مختلف وفاقی اداروں کے 5947 ملازمین متاثر ہوئےجس پرجسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے کسی ملازم کوبرطرف کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، صرف  قانون کالعدم قرار دیا تھا۔

جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ جمہوری نظام میں قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے ہوتی ہے، آرڈیننس کا دائرہ محدود ہوتا ہے، مارشل لاء دور کے علاوہ ہر آرڈیننس کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ آتا ہے، آرڈیننس کے تحت بحال ملازمین کو ایکٹ میں تحفظ نہیں دیا گیا، آرڈیننس کے تحت 2009 میں بحال ہونے والے اب تک کیسے برقرار رہ سکتے تھےاور کرپشن پر نکالے گئے ملازمین کو پارلیمنٹ کیسے بحال کر سکتی ہے؟

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ حکومتی تجاویز پر غورکرکے کل اپنی رائے دینگے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ یہ پہلو بھی دیکھا جائے گا کہ تجاویز پر عمل سے عدالتی فیصلہ متاثر تو نہیں ہوگا۔

Tabool ads will show in this div