پری زاد کا 'شوکی بھائی' کون ہے؟

شوکی ڈرامے کے پسندیدہ کرداروں میں سے ایک ہے

ڈرامہ سیریل پری زاد منفرد پلاٹ ، مضبوط مکالموں، اورمعاشرتی مسائل کی دیانت دارانہ عکاسی کے باعث ابتداء سے ہی ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے اور اختتام کے قریب پہہنچتے ہوئے ہرگزرتے دن کے ساتھ اس کی مقبولیت و پسندیدگی میں اضافہ ہوا۔

مرکزی کرداراحمد علی اکبرکا کردار تو کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ عروہ حسین ، صبورعلی، عشنا شاہ اور مشال خان ہوں یاکوئی اور، اس ڈرامے کا ہرکردارانگوٹھی میں نگینے کی طرح فٹ نظرآتا ہے۔ ان جانے مانے ناموں کے علاوہ اس ڈرامے کا ایک سائیڈ رول ' شوکی' بھی ناظرین کی امیدوں پرپورااترنے میں انتہائی کامیاب رہا ۔

شوکی اس ڈرامے کے سوشل میڈیا پرسب سے زیادہ زیربحث آنے والے کرداروں میں سے ایک ہے جس کی زبان، انداز اوراداکاری کی اعلیٰ صلاحیتوں نے دیکھنے والوں کواپنی جانب متوجہ کیا۔

یہ کرداراداکرنے والے رضاعلی عابد شوبزکی دنیا میں نوواردنہیں بلکہ کافی عرصے سے ماڈلنگ اور اداکاری کررہے ہیں۔ یو ٹیوب چینل 'کانٹینٹ پاکستان ' پرتقریبا 3 ماہ قبل دیا جانے والا ان کا ایک انٹرویو پھرسے سوشل میڈیا پروائرل ہےجس میں انہوں نے اپنے جدوجہد سے بھرپور سفرکودلچسپ اندازمیں بیان کیا۔

رضا نے اداکاری کاآغازنیشنل کالج آف آرٹس لاہورکی ایک تھیسز فلم سے کیا اوراب تک 24 فلموں میں کام کرچکے ہیں لیکن دو درجن سے زائد پراجیکٹس کا تجربہ ہونے کے باجود رضا کیلئے بطورمرکزی اپنی پہچان کروانا اب تک ایک چیلنج ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'اب پاکستان میں اسٹوڈنٹ فلمیں ایک چھوٹی انڈسٹری بن چکی ہیں، یہ چھوٹے پیمانے کاکام ہےجوایک اداکار کیلئے محرک ثابت ہوتا ہے،بس آپ کو خیال رکھنا ہوتا ہے، جیسے کہ اگرآپ کو کپڑوں کی ضرورت ہے تو سستے بازاروں میں جا کرخریدیں '۔

اداکارکا کہنا ہے کہ گھرپرکوئی آئے تو پوچھتا ہے کیا کرتے ہو، جب بتاؤں اداکاری کرتا ہوں تو اگلا سوال ہوتا ہے اچھاں کہا آتے ہو، پھرخیال آتا ہے کہ پانچ چھ سال کام کرنے کے باوجود آپ کو چند پروفیسرز اورجیوری کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تو پھرمین اسٹریم میڈیا کی جانب دیکھنا پڑتا ہے۔

شوکی کے کردارسے پہچان حاصل کرنے والے رضاعلی عابد نے ٹی وی پر کام کا آغازسال 2018 میں سرمد کھوسٹ کے ڈرامہ ' آخری اسٹیشن ' سے کیا جلد ہی انہیں اداکارہ وفلمساز سکینہ سموں نے اپنی فیچرفلم 'انتظار' میں کاسٹ کیا۔

انہوں نے کہا کہ خاص پراجیکٹ کے لیے بہت محنت کرنی پڑی، داڑھی بڑھائی اور کردارمیں آنے کے لیے کچھ وقت انتظار کیا، سیٹ پر کام کا دورانیہ لامحدود تھا لیکن کام کیا اوربہت کچھ سیکھا۔

حال ہی میں اختتام پزیرہونے والے ڈرامے 'لاپتہ' میں بھی رضا نے ایک اکھڑمزدوریونین لیڈرکاکردار بخوبی نبھایا تھا۔

پری زاد کی کہانی معاشرے میں نظرانداز کیے جانے والے انسان کی جدوجہد پرمبنی ہے جوخود کو ثابت کرنے کے لیے نکلتا ہے اوراپنے بل بوتے پر پڑھائی میں سبقت لے جاتے ہوئے محنت وعزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ ڈرامے کی مقبولیت کی ایک اوروجہ محبت کی تثلیت یا روایتی ساس بہو کی کہانیوں سے ہٹ کرہونا ہے جنہیں بلاشبہ ریٹنگ تو ملتی ہے لیکن ناقدین کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔

ڈرامہ ہاشم ندیم کے اسی نام سے لکھے جانے والے ناول پر مبنی ہے جس کے ڈائریکٹرشہزاد کاشمیری ہیں۔ ہاشم ندیم کے کریڈٹ پراس سے قبل ' خدا اورمحبت ' اور 'رقص بسمل ' جیسے ڈرامے ہیں۔

Ahmed Ali Akbar

YUMNA ZAIDI

PARIZAAD

Tabool ads will show in this div