پاکستان کے بارےمیں امریکا کی سوچ ناقص رہی،کیمرون منٹر 

سابق امریکی سفیر کا اسلام آباد میں تقریب سے خطاب 

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/American-Thought-on-Pakistan-ISB-pkg-14-12.mp4"][/video]

اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کے موقع پر پاکستان میں امریکا کے سفیر رہنے والے کیمرون منٹر کا کہنا ہے کہ ماضی میں پاکستان سے متعلق امریکا کی سوچ انتہائی ناقص تھی کیوں کہ کسی کو کمتر سمجھنا یا بڑھا چڑھا کر پیش کرنا دونوں ہی غلط ہیں۔ 

اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے کیمرون منٹر نے دو طرفہ تعلقات کے لیے اپنے ملک کی ناقص سفارتی پالیسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں پاکستان کے بارے میں امریکا کی سفارتی سوچ ناقص رہی کیوں کہ پاکستان کو خطے کے مجموعی تناظر میں نہیں دیکھا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈو مور کے بجائے برابری کی بنیاد پر استوار ہونے والے تعلقات ہی پائیدار ہو سکتے ہیں۔ 

سابق امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ اب امریکا کی طرف سے آپ ڈور مور کے دباؤ سے نکل چکے ہیں اور پاکستان کو اب خود اپنے لیے ترجیحات کا ازسرنو تعین کرنا ہے، یہ پاکستان کے لیے کلیدی موقع ہے۔ 

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سابق امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل کا کہنا تھا کہ بہتر سفارتی تعلقات کے لیے بنیادی ترجیحات کا تعین ضروری ہے، افغانستان پر حملہ  سفارتی دھوکا تھا امریکا کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ 

رابن رافیل کا کہنا تھا کہ امریکا پاکستان سمیت کسی قوم پر تنقید نہیں کرتا ہمیں بنیادی چیزوں پر جانا ہوگا پیرا میٹرز سے سیکھ کر نئے مواقع دینا ہوں گے۔ 

تقریب کے شرکا نے مشکل صورتحال سے دوچار افغان عوام کے لیے پاکستان کے اقدامات کو سراہتے ہوئے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ افغانستان کو انسانی بنیاد پر مدد فراہم کی جائے۔ 

Tabool ads will show in this div