برطرف سرکاری ملازمین کوریلیف دینے سےمتعلق حکومت سے تجاویزطلب

سرکاری ملازمین کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت حتمی مرحلے میں داخل

Supreme Court

سپریم کورٹ میں برطرف سرکاری ملازمین کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت حتمی مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ نے برطرف ملازمین کو ریلیف دینے سے متعلق حکومت سے تجاویز طلب کرلیں۔

پیر کو سپریم کورٹ میں برطرف سرکاری ملازمین کی نظرثانی درخواستوں پر سماعت میں جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ کالعدم قرار دیا گیا قانون بحال نہیں ہوگا۔جسٹس عمر عطاء بندیال نےسوال اٹھایا کہ کسی طریقہ کار کے بغیر بحالی اور تعیناتیاں کیسےہوسکتی ہیں؟۔

اٹارنی جنرل خالد جاوید نے کہا کہ پارلیمان اس ایکٹ کا دفاع حکومت اور میرے ذریعے کررہی ہے۔ یہی کیس اگر 2010 میں آتا تو میں اس کی مخالفت کرتا اس پرجسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ تو آپ یہ تسلیم کررہے ہیں کہ بحالی کا قانون غیر آئینی ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے استفسار کیا کہ ملازمین کی بحالی کی وجہ سے جن 15 ہزار نوجوانوں کیلئے نوکریاں ختم ہوئیں، ان کی حق تلفی کا کیا کریں گے؟ یہ بھی اندازہ نہیں کہ اداروں کو ان ملازمین کی ضرورت تھی بھی یا نہیں ؟ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ بحال ملازمین اداروں پر کہیں بوجھ تو نہیں تھے؟۔

جسٹس منصور کا مزید کہنا تھا کہ یہ درست ہے کہ غیرآئینی قانون سازی میں ملازمین کا کردار نہیں تھا، لیکن بحالی کا قانون دوبارہ نہیں بن سکتا کیونکہ عدالتی فیصلہ آچکا ہے،پارلیمان  10سال سروس پر ملازمین کو ریلیف دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ عدالت صرف آئین و قانون کی تشریح کر سکتی ہے، ملازمین کی کیٹیگریز بنانا حکومت کا کام ہے۔ کیس کی مزید سماعت منگل 14 دسمبر کو ہوگی۔

 سماء ٹی وی کو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر فالو کریں اور یوٹیوب پر لائیو دیکھیں

Tabool ads will show in this div