برطانوی دور کا قدیم شاہکار اٹک خورد ریلوے اسٹیشن

پہاڑوں کے دامن میں ریل گاڑی کی آواز سیاحوں کا مرکز

برطانوی دور میں تعمیرہونے والا اٹک خورد ریلوے اسٹیشن سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن چکا ہے جس کے پیش نظر اسے دیکھنے آنے والوں کےلیے حکومت نے ایک خصوصی ٹرین سروس کا آغاز کردیا ہے۔

اٹھارہ سو چوراسی میں تعمیر ہونے والا اٹک خورد ريلوے اسٹيشن اپنی الگ ہی پہچان رکھتا ہے۔ پہاڑوں کے دامن ميں اُٹھتی ريل گاڑی کی آواز سياحت کے شعبے کو پھلنے پھولنے ميں خوب مدد دے رہی ہے۔

اسٹیشن ماسٹر محمد عمران کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان ریلوے کا بہت ہی پیارا اور پرانا ریلوے اسٹیشن ہے جو1884 میں بنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہاڑوں کے دامن میں واقع اس خوبصورت اسٹیشن تک سفاری ٹرین راولپنڈی سے یہاں تک چلتی ہے۔

حکومت نےعوام کی سہولت کيلئے خصوصی ٹرین چلائی تو منفرد ريلوے اسٹيشن ديکھنے کيلئے آنے والوں کی تعداد بھی بڑھنے لگی ہیں۔

سیاحوں کا کہنا ہے کہ ہمیں بہت خوشی ہوئی کہ ہمارا اپنا ملک کتنا خوبصورت ہے اور ہمارے لوگ سیاحت کے لیے دوسرے ملکوں میں جاتے ہیں۔

دریائے سندھ اور دریائے کابل کا ملاپ اِس مقام کی خوبصورتی ميں چارچاند لگا ديتا ہے سفاری ٹرین پر آنے والے دریاوں کے نظارے کے ساتھ کشتی کی سواری سے بھی لطف اندوز ہوتے ہیں۔

پرانے نظام سے چلنے والا یہ ریلوے اسٹیشن سرسبز پہاڑوں کے درمیان اٹک قلعہ کےعقب میں خيبرپختونخوا اور پنجاب کے سنگم پرواقع ہے۔

tourism in pakistan

Attock Khurd railway station

Tabool ads will show in this div