عمران فاروق کیس،ملزمان کی سزا کےخلاف اپیلوں پرہائیکورٹ کا فیصلہ محفوظ

اپیلوں پر فریقین کے دلائل مکمل

اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس میں ملزمان خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی کی سزا کے خلاف اپیلوں پر فریقین کے دلائل مکمل ہوگئے ہیں جس کے بعد اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ اورجسٹس عامر فاروق نے ڈاکٹرعمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کی اپیلوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز کے دلائل اور تحریری جواب گراف کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے ملزمان کی اپیلیں خارج کرنے کی استدعا کردی۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد اور دستاویزات موجود ہیں،اس لئےعدالت انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھے۔ملزمان خالد شمیم، معظم علی اور محسن علی کے وکلاء کے دلائل اور تحریری جواب بھی جمع کروائے گئے ہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نےشواہدکاچارٹ پیش کیا:۔

پیر29 نومبر کو ملزم محسن علی کے وکیل مہر محمد بخش عدالت میں پیش ہوئے تھے اورڈپٹی اٹارنی جنرل خواجہ امتیاز نے شواہد کا چارٹ پیش کرتے ہوئے دلائل بھی مکمل کرلئے تھے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نےڈپٹی اٹارنی جنرل کی چارٹ پیش کرنے پر تعریف کی اور کہا کہ خواجہ صاحب آپ نے بہت اچھا چارٹ بنایا ہے۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اس چارٹ میں چاقو اور دیگر سامان کا ریکارڈ بھی پیش کیا گیا ہے جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کا ریکارڈ بھی دینے کوتیار ہیں۔چیف جسٹس نے ملزمان کے وکلا کو ہدایت کی کہ ان کی محنت آپ بھی دیکھ لیں اور آپ بھی چارٹ بنائیں۔

عدالت کو ملزم محسن علی کے وکیل مہر محمد بخش نے بتایا کہ ملزم کی جانب سے تحریری دلائل جمع کروا دیے ہیں۔ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ دیگر 2 ملزمان خالد شمیم اور معظم علی کے وکلاء تحریری دلائل جمع کروائیں۔

اس سے قبل ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے لیے برطانیہ  رقم بھیجی گئی اور وہاں کے بینک میں اکاؤنٹ کھولے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ مجرم معظم کے نام پراکاؤنٹس کھول کر اس میں  فنڈز جاری کیے گئے اور اس میں  ایک بڑی کمپنی کا نام ہے جبکہ فنڈز کاشف نامی شخص کے نام بھی گئے۔

عمران فاروق قتل کیس،مجرم خالداورمعظم کےوکلاء نےتیاری کیلئےمہلت مانگ لی

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ 25 لاکھ روپے معظم کے اکاؤنٹس میں گئے اور ملزمان کی ٹریول ہسٹری بھی موجود ہے۔ یکم اگست کو اکاؤنٹس سے 17  لاکھ روپے نکالے گئے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ملزمان کا بیرون ملک جانے کا مقصد یہ قتل ہی تھا اور ان کا پڑھائی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ملزمان نے اکاؤنٹس سے پیسے نکلواتے ہی اپنا کام کردیا اوراس سلسلے میں چارٹ موجود ہے جس میں تمام تفصیلات موجود ہیں۔ اس کیس کے ملزمان کا چھ بار چار اورچار دن کا تفتیشی افسر نے ریمانڈ لیا۔

پس منظر:۔

کیس کے ملزمان معظم علی،خالد شمیم اور محسن علی نے سزا کے خلاف اپیلیں دائر کر رکھی ہیں۔ ملزمان کی جانب سے اے ٹی سی کا 18  جون 2020 کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے۔ ملزمان کی جانب سے پچھلے برس سزا کے خلاف اپیلیں دائر کی گئی تھیں۔

عمران فاروق قتل کیس،ملزمان کوعمرقیدکی سزاسنادی گئی

واضح رہے کہ خصوصی عدالت نےقتل کیس میں خالد شمیم،معظم اور محسن کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔فیصلے میں عدالت نے ریمارکس دئیےکہ استغاثہ نےاپنا کیس ثابت کردیا ہے،ملزمان نے مادر وطن کا نام پوری دنیا میں بدنام کیا مثالی سزا کے مستحق ہیں،سزائے موت کے لئے یہ بہترین کیس ہے لیکن ترمیمی آرڈیننس کے بعد بیرون ملک سے حاصل شواہد پر سزائے موت دے نہیں سکتے۔ قتل کی سازش اورمعاونت پر بانی متحدہ سمیت 4افراد کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے جاچکے ہیں۔

عمران فاروق کیس،ملزمان کی سزا کيخلاف اپیلیں سماعت کیلئے مقرر

چودہ جون 1960 کو کراچی میں پیدا ہونے والےایم کیوایم رہنماء عمران فاروق کا 16ستمبر 2010 میں لندن کےعلاقے ایجوائر میں قتل ہوا تھا۔ ان کا شمار ایم کیوایم کے سرکردہ رہنماء اور آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے بانیوں میں سے ہوتا تھا۔

نوٹ: سماء ٹی وی کو فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام پر فالو کریں اور یوٹیوب پر لائیو دیکھیں۔

imran farooq murder case

Tabool ads will show in this div