سندھ یونیورسٹی کے17طلبہ و دیگر کیخلاف بغاوت کا مقدمہ درج 

جامعہ سندھ میں ملک مخالف تقاریر کرنے کا الزام 
 

سندھ یونیورسٹی میں مبینہ طور پر ملک مخالف تقاریر کرنے پر جامعہ کے 17 طالبعلموں سمیت دیگر ملزمان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کر لیا گیا۔ 

گزشتہ ماہ 18 نومبر کو جامعہ سندھ میں زیرو پوائنٹ کے مقام پر 30 سے زائد افراد بشمول جامعہ کے 17 طلبہ نے جمع ہو کر ملک مخالف تقاریر اور نعرے بازی کی۔ 

ملک مخالف تقاریر پر جامعہ سندھ کے طالب علموں سمیت 30 سے زائد افراد کے خلاف مقدمہ الزام نمبر 305/21 تعزیرات پاکستان کی دفعات 123(اے)، 124 (اے)، 153(اے)، 147، 149، 109، اور 505 کے تحت سرکار کی مدعیت میں جامشورو پولیس اسٹیشن میں 16 دن گزرنے کے بعد رواں ماہ 3 دسمبر کو مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ 

ایف آئی آر کے مطابق جامشورو پولیس اسٹیشن کی ایک ٹیم کو دوران گشت اطلاع ملی کہ جامعہ سندھ میں واقع زیرو پوائنٹ پر 34 سے 35 افراد جمع ہو کر سندھ کلچر ڈے منا رہے ہیں۔ 

 متن کے مطابق پولیس ٹیم 18 نومبر بروز جمعرات دن 2 بجے جامعہ سندھ پہنچی تو دیکھا کہ 23 سے 35 افراد زیرو پوائنٹ پر جمع ہیں اور تقاریر کرنے کے علاوہ ملک مخالف نعرے بھی لگا رہے ہیں لیکن جیسے ہی پولیس کی مزید نفری جائے وقوعہ پہنچی تو ملزمان وہاں سے فرار ہو گئے۔ 

اس مقدمے میں 21 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں 17 طالب علم بھی شامل ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق 13 سے 14 افراد نامعلوم ہیں۔ 

غیر متعلقہ افراد یونیورسٹی میں کیسے داخل ہوئے؟  

جامعہ سندھ میں چار نامزد ملزمان سمیت دیگر 13 سے 14 افراد یونیورسٹی میں کیسے داخل ہوئے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمارا نمائندہ کراچی سے جامشورو گیا۔ حیرت انگیز طور پر ہمارے نمائندے کو گیٹ پر مامور سیکیورٹی گارڈ نے شناخت تک کے لیے نہیں روکا۔ زیرو پوائنٹ (جائے وقوعہ) پر نمائندے نے دیکھا کہ چند افراد موجود تھے اور اسٹیچو آف وسڈم کے ساتھ کھڑے ہو کر تصویریں لے رہے تھے۔ 

 ان افراد سے جب 18 نومبر کو پیش آنے والے واقعہ سے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ یونیورسٹی کے طالب علم نہیں ہیں اور تصویریں لینے یونیورسٹی آئے ہیں۔ اس سوال کا جواب تو مل گیا کہ غیر متعلقہ افراد یونیورسٹی میں کیسے داخل ہوئے لیکن جامعہ سندھ میں ملک مخالف تقاریر پر اب بھی سوالیہ نشان تھا۔ اس کا جواب حاصل کرنے کے لیے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو سے مختلف اوقات میں مختلف ذرائع سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔ 

تحقیقات کہاں تک پہنچیں؟  

جامشورو پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او ملک ریاض نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ اس واقعے میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جسے عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے۔ ملزم کی انٹروگیشن رپورٹ شیئر کرتے ہوئے ایس ایچ نے بتایا کہ ملزم کا نام عابد علی جمالی ہے اور وہ جامشورو پھاٹک کا رہنے والا ہے۔ ایس ایچ او نے بتایا کہ ملزم انٹر پاس ہے اور رکشہ چلاتا ہے۔ انٹروگیشن رپورٹ کےمطابق ملزم کا تعلق جئے سندھ قومی محاذ (جسقم) بشیر خان قریشی گروپ سے ہے۔ ایس ایچ او سے ملزم سمیت دیگر ملزمان کے یونیورسٹی میں داخلے پر سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ اس سوال کا جواب یونیورسٹی انتظامیہ ہی دے سکتی ہے۔ 

ایس ایچ او نے بتایا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کی شناخت تصاویر اور ویڈیوز کی مدد سے کی گئی ہے جو کہ ناقابل تردید ہے۔ ایس ایچ او سے سوال کیا گیا کہ واقعے میں ملوث نامزد ملزمان تاحال گرفتار کیوں نہیں ہو سکے تو انہوں نے جواب دیا کہ یونیورسٹی کی انتظامیہ کو واقعہ میں ملوث طالب علموں کے نام بھیج دیے گئے ہیں۔ ایس ایچ او سے جب زیرو پوائنٹ پر ہونے والی ملک مخالف پروگرام کے منتظمین کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ انہیں تاحال معلوم نہیں کہ پروگرام کس نے منعقد کروایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم سے بھی اس بارے میں سوال کیا گیا تھا لیکن اس نے پولیس کو بتایا کہ اسے اس بات کا علم نہیں۔ ایس ایچ او کے مطابق جب دیگر ملزمان گرفتار ہوں گے تو واقعے کی مزید معلومات حاصل ہوں گی۔ 

ملزمان تاحال گرفتار نہیں ہو سکے؟  

ایس ایس پی جامشورو جاوید احمد بلوچ نے سماء ڈیجیٹل کو بتایا کہ ایف آئی آر میں نامزد طالب علموں نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث ہی نہیں اور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ان سے جان چھڑانے کے لیے ان کے نام پولیس کو دیے ہیں۔ ایس ایس پی کا کہنا ہے کہ بعض طالب علموں کا کہنا تھا کہ ان کا تعلق ایس پی اے ایف سے ہے جو کہ طالب علموں کی جماعت ہے اور ان کا کسی کالعدم جماعت سے تعلق نہیں۔ ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ نامزد افراد کے دعویٰ کا جائزہ لے رہے ہیں اور ان کی گرفتاری کا فیصلہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔ 

تحقیقات کے دوران جامشورو پولیس ایسٹیشن کے ہیڈ محرر الہی بخش نے بتایا کہ جامعہ سندھ کی انتظامیہ اس واقع میں ملوث طالب علموں کے خلاف ایکشن لینے کی جرات بھی نہیں کر سکتی جس کی دو وجوہات ہیں جن میں سے ایک تو یہ ہے کہ نامزد ملزمان اس جامعہ کے ہاسٹل میں رہتے ہیں اور ہاسٹل میں بااثر سیاسی شخصیات کے بچے مقیم ہیں اوران پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں۔ دوسری وجہ خوف ہے۔ الہی بخش نے بتایا کہ دسمبر 2011 میں ڈسپلن کی خلاف ورزی پر جامعہ سندھ کے اس وقت کے اسٹوڈنٹ ایڈوائزر پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد چنڑ نے جامعہ کے 18 اسٹوڈنٹس کے داخلے منسوخ کر کے یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی لگائی تھی اور چند دنوں کے بعد انہیں 2 جنوری 2012 کو علامہ آئی آئی قاضی چوک، جو کہ یونیورسٹی میں ہی واقع ہے، پر فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا تھا اور بعد میں یونیورسٹی نے قتل میں ملوث ملزمان کے داخلے بھی بحال کر دیے۔ 

آئی جی سندھ مشتاق احمد مہر کے بیان نے الہی بخش کے بیان کی تصدیق کر دی۔ سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئی آئی جی سندھ نے کہا کہ ملک مخالف تقاریر کا واقعہ 18 نومبر کو پیش آیا تھا اور پولیس اسی دن واقع کا مقدمہ درج کر کے ملزمان کو گرفتار کرنا چاہتی تھی مگر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد صدیق کلہوڑو نے پولیس سے یہ کہہ کر کارروائی کچھ دنوں کے لیے موخر کرنے کی درخواست کی کہ ان دنوں جامعہ میں سمسٹر امتحانات ہو رہے ہیں اور اس دوران پولیس مقدمہ درج کر کے طالب علموں کو گرفتار کرتی ہے تو طلبہ تنظیمیں احتجاج کی کال دے کر امتحانی عمل معطل کروا دیں گی۔ 

Sindh university

Sedition case registered

Tabool ads will show in this div