اپیل میں تاخیر:سپریم کورٹ کا خیبرپختونخوا حکومت پر اظہار برہمی 

پانچ صفحات پر مشتمل تحریر کردہ فیصلہ جاری  

Supreme Court

سپریم کورٹ نے سوات کےعلاقہ سنگوٹہ میں73کنال اراضی پبلک اسکول کو واپس کرنے کا فیصلہ جاری کرتے ہوئے مقررہ وقت کے بعد اپیل دائرکرنے پر عدالت کا خیبر پختونخواحکومت پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ 

فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ پبلک اسکول سنگوٹہ سوات میں لڑکیوں کا واحد تعلیمی ادارہ ہے جو دہشتگردوں کی جانب سے بم سے اڑادیے جانے کے بعد 5 سال تک بند رہا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ حکومت کی مذکورہ ناکامی اسکول میں زیرتعلیم بچیوں سے اظہار لاتعلقی بھی ہے، بروقت اپیل میں تاخیر کانتیجہ وہی ہوسکتا تھا جودہشتگرد حملے کا تھا، عدالت نے اپیل میں تاخیر کو سرکاری املاک کی حفاظت میں صوبائی حکومت کی ناکامی قرار دیا۔

سپریم کورٹ نے پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے زمین صوبائی حکومت سے لے کر واپس اسکول کو دے دی۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کے تحریر شدہ فیصلہ میں لکھا گیا ہے کہ سن 1970 سے اب تک تعلیمی اداروں پر ایک ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوچکے ہیں اور یہ اعداوشمار ہم نے ایک نجی ادارے سے لیے ہیں کیوں کہ وزارت داخلہ اور نیکٹا کے پاس یہ اعداوشمار سرے سے موجود ہی نہیں ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ ایسے سنگین حالات میں طلباء کا اسکولوں میں جانا ان کے بلند حوصلے کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ریاست کا فرض ہے کہ عوام کے تعلیم اور زندگی جیسے بنیادی حقوق کا تحفظ کرے۔

KP GOVERNMENT

Tabool ads will show in this div