آغا سراج درانی جنوری کےدوسرےہفتے تک جیل میں رہیں گے

بیٹے، اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیدادیں ہیں
[caption id="attachment_2452283" align="alignnone" width="640"] فائل فوٹو[/caption]

اسپیکر سندھ اسمبلی اور پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما آغا سراج درانی جنوری کے دوسرے ہفتے تک جیل میں رہیں گے۔

جمعرات کوسپریم کورٹ میں آغا سراج درانی کی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آغا سراج درانی نے نیب حکام کو گرفتاری دے دی ہے اوراحتساب عدالت نے آغا سراج درانی کو جیل بھیج دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ آغا سراج درانی کی وراثتی جائیداد کا درست تخمینہ نہیں لگایا گیا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس حوالے سے عدالت نیب کو نوٹس جاری کرتی ہے۔ اسپیشل پراسیکوٹر ستار اعوان نے عدالت کو بتایا کہ نیب کی جانب سے جواب بھی جمع کرادیا ہے۔

آغا سراج درانی عدالتی ریمانڈ پر23 دسمبر تک جیل منتقل

سپریم کورٹ نے نیب کے جواب کی کاپی آغا سراج درانی کے وکیل کو دینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے 2 شریک ملزمان کی عبوری ضمانت میں بھی آئندہ سماعت تک توسیع کردی۔ کیس کی مزید سماعت جنوری کے دوسرے ہفتے تک ملتوی کردی گئی ہے۔

احتساب عدالت میں پیشی:۔

پیر چھ دسمبر کو کراچی کی احتساب عدالت میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیا گیا۔پراسیکیوٹرنیب نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کی تھی جس کے بعد ملزم مفرور تھا تاہم پچھلے ہفتے اس کو اسلام آباد سےگرفتار کیا گیا۔پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے اور جیل کسٹڈی کردیا جائے۔

آغا سراج درانی سمیت 8ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

عدالت نے آغا سراج درانی سے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے اور دوران حراست نیب کا رویہ ٹھیک رہا؟۔عدالت کو آغا سراج درانی نے بتایا کہ میں نے خود گرفتاری دی ہے۔

آغا سراج کی گرفتاری کیسے ہوئی؟:۔

کئی ہفتوں سے روپوش اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی ضمانت قبل ازگرفتاری کیلئے 3 دسمبر بروز جمعہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے آغا سراج درانی کو پہلے گرفتاری دینے کی ہدایت کی۔ جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔

آغا سراج درانی کا 2روزہ راہداری ریمانڈ منظور

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد ضمانت بعد از گرفتاری کیسے کی گئی، ملزم نے نیب کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔

اس موقع پر آغا سراج درانی کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ عدالت کے سامنے موکل نے سرینڈر کر دیا ہے، ہمیں کم از کم ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کی اجازت دیدیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس طرح کے سرینڈر کو عدالت نہیں مانتی۔

عبوری ضمانت کی منسوخی:۔

سندھ ہائیکورٹ نے آغا سراج درانی کی عبوری ضمانت 16 اکتوبر کو منسوخ کی تھی۔46 دن مفرور رہنے کے بعد آغا سراج درانی نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ ہائی کورٹ کا خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔اس بینچ نے آغا سراج درانی سمیت 11 ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کی تھی۔

ریفرنس کے شریک ملزمان میں آغا سراج درانی کی اہلیہ،3 بیٹیوں اور1 بیٹے سمیت 7 ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔آمدن سے زائد اثاثوں کے  ریفرنس میں فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کےخلاف شہید بینظیر بھٹو یوینورسٹی لیاری میں غیر قانونی بھرتیوں کی انکوائری جاری ہے۔آغا سراج درانی کےخلاف ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیرمیں کرپشن سے متعلق انکوئری بھی زیرِالتوا ہے۔

نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر پر 1 ارب 61 کروڑ روپے کےغیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے جبکہ کچھ جائیدادیں فروخت بھی کر دی ہیں۔ غیر قانونی اثاثہ جات میں گھر، 35گاڑیاں اور ساڑھے 300 تولہ سونا بھی شامل ہے جبکہ 11 کروڑ روپے کی قيمتی گھڑياں بھی برآمد ہوئيں۔

ایف بی آر کے مطابق آغا سراج درانی نے 2007 سے 2018 تک 11کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی تھی مگر دوران تفتیش آغا سراج درانی نے آمدنی 8کروڑ روپے بتائی۔ اثاثوں میں 11گاڑیاں جبکہ بیٹے، اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیدادیں ہیں۔

Tabool ads will show in this div