اسپاٹ فکسنگ کیس،کرکٹر خالد لطیف نے سزا کےخلاف اپیل واپس لے لی

اسپاٹ فکسنگ کیس میں 5 سال کی پابندی کی سزا ملی تھی جو کہ 10 فروری کو ختم ہوجائے گی

Supreme Court

کرکٹر خالد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ کیس میں سزا کے خلاف اپیل واپس لے لی ہے۔

بدھ کو سپریم  کورٹ میں سماعت کے دوران کرکٹر خالد لطیف نے موقف اختیار کیا کہ انھیں اسپاٹ فکسنگ کیس میں 5 سال کی پابندی کی سزا ملی تھی جو کہ 10 فروری کو ختم ہوجائے گی اس لیے میں اپنی اپیل واپس لینا چاہتا ہوں۔

عدالت نے اپیل واپس لینے کی استدعا منظورکرلی۔ اس موقع پرپاکستان کرکٹ بورڈ کے وکیل تفضل رضوی نے بینچ کے رکن جسٹس اعجاز الاحسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس صاحب آپ بھی جوانی میں ہارڈ ہٹنگ بلے باز تھے اور درخواست گزار خالد لطیف بھی ہارڈہٹنگ کرنے والے کھلاڑی ہیں۔اس پر بینچ کے دوسرے رکن جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دئیے کہ مطلب یہ کہ اگر درخواست واپس نہ لی جاتی تو آج کمرہ عدالت میں کافی ہارڈ ہٹنگ ہونی تھی۔ اگر مقدمہ چلتا تو صورتحال کافی مختلف ہونی تھی۔

خالدلطیف کوکس نےآفردی،خفیہ ویڈیوآگئی

واضح رہے کہ خالد لطیف کو پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث ہونے پر پی سی بی نے 5 سال کے لیے کرکٹ کھیلنے پر پابندی اور10 لاکھ  روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

خالد لطیف نے اسپاٹ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے ٹریبونل کے دائرہ احتیار کو بھی چیلنج کیا تھا۔ خالد لطیف کے وکیل نےاپیل میں نشاندہی کی تھی کہ اینٹی کرپشن یونٹ کے رولز نوٹیفائڈ نہیں اور اسی وجہ سے کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔اپیل میں استدعا کی گئی کہ اینٹی کرپشن یونٹ اور ٹربیونل کو ان کے خلاف تحقیقات اور کارروائی سے روکا جائے۔

Khalid Latif

Tabool ads will show in this div