سیالکوٹ واقعے کی مذمت، علماء کاملوث ملزمان کوسخت سزادینے کامطالبہ

سیالکوٹ واقعہ نے پوری قوم کو ہلا کررکھ دیا
Dec 07, 2021

[video width="1280" height="720" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Qari-Hafeez-Jalandhri-Press-Conference-SAMAA-TV.mp4"][/video]

ملک کے مختلف مکاتب فکر کے علمائے کرام نے سانحہ سیالکوٹ کی شدید الفاظ میں مذمت اور سری لنکن حکومت و عوام سے تعزیت کرتے ہوئے ملوث ملزمان کو سخت ترین سزا دینے کا مطالبہ کردیا۔ علماء نے جمعہ کو ’یوم مذمت‘ منانے کا اعلان بھی کردیا۔

اسلام آباد میں سری لنکن ہائی کمیشن کے باہر مفتی تقی عثمانی اور دیگر علمائے کرام نے سیالکوٹ سانحہ پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں مفتی تقی عثمانی کا کہنا تھا کہ ہم پوری قوم کی ترجمانی کرنے یہاں آئے ہیں۔ سیالکوٹ واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ  دیا ہے، واقعہ پر علماء، عوام سمیت تمام حلقوں نے مذمت کی ہے، سری لنکن ہائی کمیشن اور حکومت سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، سری لنکن عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔

اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ہم ملاقات کیلئے وقت دینے پر سری لنکن ہائی کمشنر کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سے درخواست ہے کہ متاثرہ خاندان کو معاوضہ دے، واقعے پر دکھ ہے، ملوث افراد کو سخت سزا دی جائے، سری لنکا ہمارا برادر ملک ہے، ملزمان کو سخت سے سخت سزا دلائیں گے۔

ملک عدنان کیلئے تمغۂ شجاعت

سانحہ سیالکوٹ میں مقتول سری لنکن شہری کو بچانے والے شہری ملک عدنان کو تمغۂ شجاعت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کو مشتعل ہجوم سے بچانے کی جدوجہد کرنے والے ساتھی منیجر ملک عدنان سے آج بروز منگل 7 دسمبر کو اسلام آباد میں ملاقات کریں گے۔

مزید جانیے: سانحہ سیالکوٹ، موبائل کالزڈیٹااورفوٹیجز کی مددسےمزیدمرکزی ملزمان گرفتار

ملک عدنان کو خصوصی پروٹوکول کے ساتھ پی ایم ہاؤس میں قیام کیلئے لایا گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان ملک عدنان کے اعزاز میں آج تقریب رکھیں گے، جس میں ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم نے اعلان کیا تھا کہ ہم ملک عدنان کو تمغۂ شجاعت سے نوازیں گے۔

سری لنکن ہائی کمشنر

اس موقع پر سری لنکن ہائی کمشنر نے کہا کہ پاکستان میں ایسا واقعہ نہیں ہونا چاہیے تھا، مجرموں کے مقدمات پر کارروائی شروع ہوچکی، یہ واقعہ دونوں ممالک کے تعلقات پر اثر انداز نہیں ہوگا، عمران خان نے مجرموں کو سزا کی یقین دہانی کروائی ہے۔

صاحبزادہ حامد رضا

مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں صاحبزادہ حامد رضا نے کہا کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں جس سے ہم اپنے ردعمل کا اظہار کریں، ہم یہاں سری لنکن عوام سے اظہار مذمت کرنے آئے ہیں، یہ ایک ظالمانہ اقدام تھا، جس کی کوئی حمایت نہیں کرے گا اور نہ کوئی اس پر جواز پیش کرسکتا ہے، ہم واقعے پر شرمندہ ہیں۔

یوم مذمت

اس موقع پر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ قاری حفیظ جالندھری نے جمعہ 10 دسمبر کو ملک بھر میں یوم مذمت منانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس دن تمام مساجد اور امام بارگاہوں میں جمعہ کے خطبات میں اسی موضوع پر گفتگو ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ملاقات میں اس بات کا یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان مجرمان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرے گی، ملوث ملزمان کو عبرتناک سزا دی جائے گی۔

سینیٹر ساجد میر

سینیٹر ساجد میر کا کہنا تھا کہ یہاں ہم سانحہ سیالکوٹ کی مذمت اور سری لنکن عوام اور متاثرہ اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرنے آئے ہیں۔ سیالکوٹ میں جو ہوا وہ اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ اسلام اور اس کی تعلیمات کے خلاف تھا، جس کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم اس ڈیمانڈ کو سپورٹ کرتے ہیں کہ ملوث ملزمان کو قرار واقعی سزا دے جائے۔

ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ

صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر کا کہنا تھا کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب یہاں تعزیت اور ہمدردی کیلئے آئے ہیں۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی کہ غلط الزام لگا کر کسی شخص کو اس بے دردی سے قتل کیا جائے۔ ہم واقعے کی پرزور مذمت کرتے ہیں، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، نہ پاکستان کا آئین ایسے کسی اقدام کی اجازت دیتا ہے۔ اسلام امن، محبت اور رواداری کا سبق دیتا ہے نہ کہ کسی بے گناہ کی ناحق جان لینے کا، یہ ایک غیر انسانی عمل تھا۔

علامہ عارف وحدی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ عارف وحدی نے کہا کہ ہم یہاں پوری قوم کی نمائندگی کیلئے آئے ہیں۔ ہم یہ پیغام دینے آئے ہیں کہ دونوں ممالک جیسے پہلے برادر ملک تھے، ویسے ہی رہیں گے۔ ہم دوستی برقرار رکھیں گے اور مزید بہتر تعلقات قائم کریں گے۔

مفتی عبدالرحیم

ان کا کہنا تھا کہ ہم اس شدت پسندی کی مذمت کرتے ہیں، یہ شدت پسندی پاکستان اور اسلام کے ساتھ دشمنی ہے۔

واضح رہے کہ جمعہ 3 دسمبر کو سیالکوٹ میں اسپورٹس ویئر بنانے والی فیکٹری کے سری لنکن منیجر کو مشتعل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگا کر تشدد کرکے قتل کردیا تھا جبکہ لاش کی بے حرمتی کرتے ہوئے اسے نذر آتش بھی کیا گیا۔

پولیس نے واقعے میں ملوث مرکزی ملزمان سمیت تقریباً 150 افراد کو گرفتار کرلیا، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو واقعے کے وقت ویڈیوز اور سیلفیاں بنارہے تھے۔

Tabool ads will show in this div