جس ملک کا نظام آئین کےمطابق نہ ہووہ ملک ترقی نہیں کرتا،شاہدخاقان

جب تک آئینی نظام میں مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک یہ ملک صحیح نہیں ہوگا
Dec 07, 2021

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Shahid-Khaqan-Abbasi-Montage-Isb-07-12.mp4"][/video]

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ جس ملک کا نظام آئین کے مطابق نہ ہو وہ ملک ترقی نہیں کرتا ہے اور جب تک آئینی نظام میں مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک یہ ملک صحیح نہیں ہوگا۔

منگل کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے بات کرتےہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملک میں احتساب کے نظام کی حالت آپ دیکھ سکتے ہیں،نیب نے جو قوانین بنائے ہیں، ان کا عدالت کو بھی علم نہیں ہے۔ نیب کے تیسرے آرڈیننس کا مطلب صرف حکومت کو این آر او دینا تھا۔

انھوں نے کہا کہ نئے آرڈیننس کےتحت مخصوص وقت تک کے فیصلے درست اور اس سے پہلے والے غلط ہیں۔ قانون میں ثابت ہوگیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنی چوری بچا رہا ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ چئیرمین نیب خود ڈیلی ویج پر ہیں۔ صدر مملکت آنکھیں بند کرکے آرڈیننس پر دستخط کرتے رہتے ہیں لیکن 4 ماہ سے چئیرمین نیب کی تعیناتی پر فیصلہ نہیں کرسکے۔

ملکی صورتحال پر انھوں نے کہا کہ ملک کے بدترین حالات کی قیمت عوام ادا کررہے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی پوچھنے والا یا بات کرنے والا نہیں ہے۔ جہاں نظام آئین کے مطابق نہ ہو وہ ملک ترقی نہیں کرتا ہے۔

اپوزیشن سے متعلق لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ سے مستعفی ہونے اور عدم اعتماد کی تحریک کا آپشن بھی موجود ہے تاہم یہ وقت پر استعمال کیا جائے گا۔ جب تک آئینی نظام میں مداخلت ختم نہیں ہوگی تب تک یہ ملک صحیح نہیں ہوگا۔

Tabool ads will show in this div