سندھ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کا کراچی میں احتجاج

مظاہرین کی وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف پیش قدمی

Nurses Protest 1500 Khi FTG 01 06-12

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Nurses-Protest-1500-Khi-FTG-01-06-12.mp4"][/video]

کراچی میں سندھ ینگ نرسز ایسوسی ایشن احتجاج کرتے ہوئے رکاوٹیں ہٹا کر آرٹلری میدان تھانے کے سامنے پہنچ گئے ہیں۔

سندھ ینگ نرسز ایسوسی ایشن کا مطالبہ ہے کہ کوویڈ کے دنوں میں کانٹریکٹ کی بنیاد پر ملازمت پر رکھنے والی نرسز کو مستقل کیا جائے اور پروموشن بھی کی جائے۔

ایوسی ایشن کا گزشتہ سات روز سے کراچی پریس کلب پر احتجاج جاری تھا جو آج احتجاج ریلی کی شکل میں پہلے آرٹ کونسل چوک پہنچے اور وہاں سے مزید آگے بڑھے۔

پولیس نے تین مظاہرین کو حراست میں لے لیا ہے جنہیں چھوڑ دیا گیا۔ مظاہرین اس وقت پی آئی ڈی سی چوک پر احتجاج کر رہے ہیں جبکہ پولیس کی بھاری نفری اور واٹر کینن بھی موجود ہیں۔

مظاہرین کو وزیراعلیٰ ہاؤس کی طرف جانے سے روکنے کے لیے پولیس کی نفری موجود ہے۔

کچھ دیر قبل، احتجاج سے متعلق وزیر صحت ڈاکٹر عذرا پیچھو کا کہنا تھا کہ کوویڈ کے ڈاکٹرز اور نرسز چاہتے ہیں کہ انہیں مستقل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم سے ٹائم اسکیل مانگا تھا جو ہم دے چکے ہیں لیکن اب ینگ ڈاکٹرز احتجاج کریں گے تو یہ درست نہیں۔ ہم کابینہ اور پارلیمنٹ سے ان کی ریگولرائزیشن تو لے لیں لیکن عدالت نے کہا ہے کہ بغیر کمیشن کے انہیں ریگولرائز نہیں کر سکتے۔

Tabool ads will show in this div