آغا سراج درانی عدالتی ریمانڈ پر23 دسمبر تک جیل منتقل

پراسیکیوٹرنیب نےعدالت کوبتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کی تھی جس کے بعد ملزم مفرورتھا
[caption id="attachment_2452283" align="alignnone" width="640"] فائل فوٹو[/caption]

احتساب عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی  آغا سراج درانی کو 23 دسمبر تک عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

پیر کو کراچی کی احتساب عدالت میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو پیش کیا گیا۔پراسیکیوٹرنیب نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے ملزم کی ضمانت منسوخ کی تھی جس کے بعد ملزم مفرور تھا تاہم پچھلے ہفتے اس کو اسلام آباد سےگرفتار کیا گیا۔پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزم کے ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے اور جیل کسٹڈی کردیا جائے۔

عدالت نے آغا سراج درانی سے استفسار کیا کہ آپ کے ساتھ کوئی مسئلہ تو نہیں ہے اور دوران حراست نیب کا رویہ ٹھیک رہا؟۔عدالت کو آغا سراج درانی نے بتایا کہ میں نے خود گرفتاری دی ہے۔

نیب نےآغا سراج درانی کو جمعہ کو سپریم کورٹ کے باہر سے گرفتار کیا تھا۔اسپیکرسندھ اسمبلی کو آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں گرفتار کیا گیا۔

آغا سراج درانی سمیت 8ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

نیب کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی و دیگر پر 1 ارب 61 کروڑ روپے کےغیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام ہے جبکہ کچھ جائیدادیں فروخت بھی کر دی ہیں۔ غیر قانونی اثاثہ جات میں گھر، 35گاڑیاں اور ساڑھے 300 تولہ سونا بھی شامل ہے جبکہ 11 کروڑ روپے کی قيمتی گھڑياں بھی برآمد ہوئيں۔

ایف بی آر کے مطابق آغا سراج درانی نے 2007 سے 2018 تک 11کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی تھی مگر دوران تفتیش آغا سراج درانی نے آمدنی 8کروڑ روپے بتائی۔ اثاثوں میں 11گاڑیاں جبکہ بیٹے، اہلیہ اور بیٹوں کے نام پر کراچی اور ایبٹ آباد میں جائیدادیں ہیں۔

آغا سراج درانی کا 2روزہ راہداری ریمانڈ منظور

سندھ ہائیکورٹ نے آغا سراج درانی کی عبوری ضمانت 16 اکتوبر کو منسوخ کی تھی۔46 دن مفرور رہنے کے بعد آغا سراج درانی نے سپریم کورٹ میں ضمانت کی درخواست دائر کی تھی۔

سپریم کورٹ نے سندھ ہائی کورٹ کو آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت کی دوبارہ سماعت کا حکم دیا تھا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر سندھ ہائی کورٹ کا خصوصی بینچ تشکیل دیا گیا تھا۔اس بینچ نے آغا سراج درانی سمیت 11 ملزمان کی عبوری ضمانت منسوخ کی تھی۔

ریفرنس کے شریک ملزمان میں آغا سراج درانی کی اہلیہ،3 بیٹیوں اور1 بیٹے سمیت 7 ملزمان کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔آمدن سے زائد اثاثوں کے  ریفرنس میں فرد جرم بھی عائد کی جاچکی ہے۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کےخلاف شہید بینظیر بھٹو یوینورسٹی لیاری میں غیر قانونی بھرتیوں کی انکوائری جاری ہے۔آغا سراج درانی کےخلاف ایم پی اے ہاسٹل کی تعمیرمیں کرپشن سے متعلق انکوئری بھی زیرِالتوا ہے۔

آغا سراج کی گرفتاری کیسے ہوئی؟:۔

کئی ہفتوں سے روپوش اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی ضمانت قبل ازگرفتاری کیلئے 3 دسمبر بروز جمعہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے آغا سراج درانی کو پہلے گرفتاری دینے کی ہدایت کی۔ جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد ضمانت بعد از گرفتاری کیسے کی گئی، ملزم نے نیب کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔

اس موقع پر آغا سراج درانی کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ عدالت کے سامنے موکل نے سرینڈر کر دیا ہے، ہمیں کم از کم ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کی اجازت دیدیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس طرح کے سرینڈر کو عدالت نہیں مانتی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آئندہ ہفتے اس کیس کی سماعت کریں گے۔ عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو احاطہ عدالت سے گرفتار نہ کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی۔

Tabool ads will show in this div