سعودی عرب سے رقم ملنےپر ڈالر کی قیمت میں کمی

سعودی امداد سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا
Dec 06, 2021
[caption id="attachment_2437533" align="alignnone" width="800"]DOLLAR_NEW_1 فوٹو: آن لائن[/caption]

 سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کو 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس فراہم کیے جانے کے بعد پیر 6دسمبر کو دوران ٹریڈنگ انٹر بینک اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں کمی آئی ہے۔

 اسٹیٹ بینک کے مطابق انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 9 پیسے کمی سے 176.48 اور اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 1 روپے سستا ہوکر 177.70 روپے کا ہوگیا۔

ماہرین کے مطابق ڈالر کی قیمت میں کمی سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کے فنڈز ملنے کے بعد ہوئی، یہ رقم اسٹیٹ بینک میں بطور ڈیپازٹ رکھی جائے گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہوگا۔

زرمبادلہ کے ذخائر

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 26 نومبر کو زرمبادلہ کے ذخائر 27.5 کروڑ ڈالر کمی سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 16.01 ارب ڈالر ہوگئے تھے جس کے بعد اسٹیٹ بینک اور کمرشل بینکوں کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر 50 کروڑ ڈالر رہ گئے تھے جس میں سے کمرشل بینکوں کے پاس موجود ذخائر 6.49 ارب ڈالر تھے۔

ذخائر میں کمی بنیادی طور پر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی، ملک کا بیرونی کھاتہ بڑھتے ہوئے قرضوں کی ادائیگی اور بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے دوہرے دباؤ کا شکار ہے۔

سعودی عرب سے 3 ارب ڈالر کی رقم موصول ہونے کے بعد اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں تین ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا جس سے اسٹیٹ بینک کے ذخائر بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بحالی

آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان 6 ارب ڈالر قرض کی بحالی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے تحت پاکستان کو آئی ایم ایف کےایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد 1ارب 5کروڑ 90لاکھ ڈالر کی اگلی قسط جنوری تک جاری کی جائے گی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اور روپے کی قدر میں بھی اضافہ ہوگا۔

آئی ایم ایف کی جاری کردہ رپورٹ کےمطابق نئی قسط ملنے کے بعد پاکستان کو فراہم کردہ رقم 3 ارب 2 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ہوجائے گی۔ اس کے علاوہ قرض پروگرام کی بحالی سے پاکستان کو دیگر ممالک اور عالمی اداروں سے فنڈنگ کے حصول میں مدد ملے گی۔

Tabool ads will show in this div