سانحہ سیالکوٹ:موبائل کالزڈیٹااورفوٹیجز کی مددسےمزیدمرکزی ملزمان گرفتار

اس واقعےمیں ملوث مجموعی طور پر 131 گرفتاریوں کی جا چکی ہیں
فائل فوٹو
فائل فوٹو

سانحہ سیالکوٹ کی تحقیقات کے دوران پولیس نے موبائل کالز ڈیٹا اور سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے مزید 7 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔اس واقعے میں ملوث مجموعی طور پر 131 گرفتاریوں کی جا چکی ہیں۔

سیالکوٹ میں سری لنکن مینجر کے قتل کی تفتیش کے دوران اشتعال پھیلانے اورتشدد میں ملوث مزید 7اہم کردار گرفتار کرلیے گئے ہیں۔

پولیس کی تفتیشی ٹیم نے یہ کارروائی موبائل کالز ریکارڈ اور کلوز سرکٹ فوٹیجز کی مدد سے کی۔گرفتارہونے والے ساتوں ملزمان سری لنکن مینجر پر حملے کی منصوبہ بندی اور اشتعال پھیلانے میں ملوث ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق اب تک واقعہ میں ملوث 131 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سے 26 کا مرکزی کردار سامنے آیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ زیر حراست افراد سے تفتیش جاری ہے اورذمہ داران کا تعین کرنے کے لیےمزید گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

ویڈیو: سری لنکن منیجرکے قتل کے بعد فیکٹری کے مناظر

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو سیالکوٹ واقعے کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا کہ جن لوگوں نے لاش کے ساتھ سیلفیاں بنائیں انہیں بھی پکڑا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے پولیس کو ہدایت کی کہ دیگر ملزمان کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے، ملزمان قرار واقعی سزا سے بچ نہیں پائیں گے۔

رپورٹ ميں کہا گيا کہ مار پیٹ کا واقعہ صبح 11 بجے کے قریب شروع ہوااور جب يہ واقعہ رونما ہوا تو فیکٹری مالکان غائب ہوگئے،فوٹیج کی مدد سے مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

سیالکوٹ واقعہ،13مرکزی ملزمان گرفتار، آئی جی پنجاب پولیس

رپورٹ کے مطابق غیرملکی وفد نے فیکٹری کا دورہ کرنا تھا، اسی سلسلے ميں منيجر نے مشينوں کی مکمل صفائی کا حکم دے رکھا تھا، جن لوگوں نے اشتعال انگیزی میں کردار ادا کیا انہیں بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

شاہ محمود قریشی کا بیان:۔

لاہور میں ہفتے کووزيرخارجہ  شاہ محمود قريشی نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے بتایا کہ سیالکوٹ واقعہ باعث ندامت ہے اوروزیراعظم نے اس واقعے کا نوٹس لےلیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں اور امید ہے کہ 48گھنٹے میں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیاہے۔

شاہ محمودقریشی نے بتایا کہ سری لنکن ہائی کمشنرکےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اورسیالکوٹ واقعےسےسری لنکاکے ساتھ تعلقات متاثرنہیں ہونگے۔

انھوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ فیملی سےرابطہ کیا ہے اورجیساوہ چاہیں گےوہی کریں گے۔

وزیراعظم اور سری لنکن سربراہان مملکت:۔

وزيراعظم عمران خان نے سانحہ سيالکوٹ پر سری لنکن صدر سے رابطہ کيا ہے اور انہيں بتايا کہ اس افسوسناک واقعے ميں ملوث 100 سے زائد افراد کو گرفتار کرليا گيا ہے۔ انہوں نے يقين دہائی کرائی کہ ملزمان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل سيالکوٹ واقعے پر سری لنکن وزيراعظم نے بھی ٹويٹ کيا اور لکھا کہ پاکستان ميں سری لنکن شہری کی موت پر افسوس ہے، واقعے پر صدمے ميں ہوں، ہمدردياں اہلخانہ کے ساتھ ہيں، يقين ہے عمران خان ذمہ داروں کو کٹہرے ميں لائيں گے۔

وائرل ویڈیوز:۔

واقعے سے متعلق وائرل ہونیوالے ویڈیوز میں دیکھا گیا کہ پاکستانی فیکٹری کے سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا مشتعل ہجوم سے جان بچانے کیلئے عمارت کی چھت پر بھاگے، کچھ لوگوں نے بچانے کی کوشش کی مگر ملازمین نہ مانے اور پریانتھا کو قتل کرکے لاش گراؤنڈ فلور پر لائے اور اس کی بے حرمتی کی، وہاں موجود ہجوم تماشائی بنارہا، لوگ ویڈیوز اور سیلفیاں بناتے رہے۔

مقتولہ کی اہلیہ کی اپیل

مقتول سری لنکن منیجر پریانتھا کمارا کی اہلیہ کہتی ہیں کہ ان کے شوہر معصوم تھے، واقعے کی خبر انٹرنیٹ سے ملی۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے منصفانہ تحقیقات اور انصاف کا مطالبہ کردیا۔

Tabool ads will show in this div