الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس روکنے کیلئےفیصل واوڈا کی اپیل سماعت کیلئے مقرر

اپیل پر فیصلہ پیر کو سنایا جائے گا
Dec 04, 2021

الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس روکنے کے لیےفیصل واوڈا کی اپیل سماعت کیلئے مقررکردی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اورجسٹس میاں گل حسن سماعت کریں گے۔ہائیکورٹ میں فیصل واوڈا کی اپیل پر فیصلہ پیر کو سنایا جائے گا۔فیصلے میں یہ معلوم ہوگا کہ الیکشن کمیشن سے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کو حکم امتناع ملے گا یا نہیں۔

فیصل واوڈا نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹراکورٹ اپیل دائر کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن صرف 60 روز میں نا اہلی کیس کا فیصلہ کرسکتا ہے اور اس کے بعد نہیں کرسکتا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ پہلے ہی فیصل واوڈا کی کاروائی روکنے کی درخواست مسترد کرچکے ہیں۔

جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ کی نااہلی کیس کی سماعت کے موقع پرفیصل واوڈا نے بتایا کہ میرے وکیل کے اہلخانہ بیمار ہیں اور ممکن ہے کہ میرے وکیل کواہل خانہ علاج کیلئے باہر جانا پڑے تاہم الیکشن کمیشن کےاحترام میں خود آیا ہوں۔ خود آنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم کیس کو سنجیدہ لے رہے ہیں ۔چیف الیکشن کمیشن نے کہا کہ وکیل کے آنے کی ضرورت نہیں، تحریری دلائل بھجوا دیتے۔

نااہلی کیس:کاغذات نامزدگی جمع کرواتے وقت قوانین سےلاعلم تھا،فیصل واوڈا

کمیشن نے فیصل واووڈا کے معاون وکیل کی سرزنش کی۔ کمیشن کے ممبر سندھ نثار درانی نے استفسار کیا کہ آپ کیس فائل لے کرآئے ہیں؟۔ معاون وکیل نے بتایا کہ کیس فائل سینئروکیل کے پاس ہے۔ اس پر نثار درانی نے کہا کہ آپ طے کرکے آئے ہیں کہ کیس چلنے نہیں دینا۔

نااہلی کیس: فیصل واوڈا کےوکیل کوپیش ہونے کیلئے آخری موقع

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ کسی نے تحریری دلائل دینے ہیں توجمع کروا دے۔ درخواست گزار کے وکلا نے موقف دیا کہ جو دلائل ہو چکے ہیں انہی پرانحصار کرتے ہیں۔  چیف الیکشن کمیشن نے 2 آپشنز دیتے ہوئے کہا کہ واووڈا صاحب ،اس کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیتے ہیں،آپ تحریری دلائل بعد میں جمع کروادیں۔ دوسرا آپشن یہ ہے کہ آپ خود دلائل دے دیں تو فیصلہ کرلیں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے مزید کہا کہ یہ تسلیم شدہ ہے کہ آپ دوہری شہریت کے حامل تھے اور اگر آپ نے شہریت چھوڑی ہے تو اس کا سرٹیفکیٹ بھی پیش کریں۔ اس پر فیصل واووڈا نے کہا کہ میں پیدا ہی دوہری شہریت کے ساتھ ہوا تھا۔ اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ سوال یہی ہے کہ کاغذات نامزدگی کے وقت دوہری شہریت تھی یا نہیں۔

فیصل واوڈانااہلی کیس،الیکشن کمیشن میں سماعت رکوانےکی درخواست ناقابل سماعت قرار

فیصل واوڈا نے بتایا کہ مجھے کسی بھی ملک کی کاغذی کارروائی کا علم نہیں ہے۔ اپنا پاسپورٹ سرنڈر کردیا تھا جس کو ریٹرننگ افسر نے تسلیم بھی کیا تاہم شہریت چھوڑنے کے سرٹیفکیٹ کا اب علم ہوا ہے اور اس کوحاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے خلاف کیس بطور ایم این اے تھا  تاہم وہ اس نشست سے مستعفی ہوچکے ہیں اور سوشل میڈیا پر شہریت چھوڑنے کے 7 سرٹیفکیٹ چل رہے ہیں، کس کو درست مانا جائے۔معلوم نہیں کہ درخواست گزار کہاں سے سرٹیفکیٹ لے آئے۔ فیصل واوڈا نے کہا کہ کمیشن سے استدعا ہے کہ میرے خلاف مقدمہ غیرموثر ہوچکا ہے اور اس کو خارج کیا جائے، سیاسی بندہ ہوں اور مخالفت تو ساری عمر ہوتی رہے گی۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہائیکورٹ نے 2 ماہ میں کیس کا فیصلہ کرنے کا حکم دیا تھا اور اب ہمیں مقدمات نمٹا کر اگلے الیکشن کی تیاری کرنی ہے،کیس کو مزید التواء کا شکار نہیں ہونے دینگے اور آئندہ سماعت پر کوئی نہ آیا تو فیصلہ محفوظ کرلیں گے۔ الیکشن کمیشن نے سماعت 23 دسمبر تک ملتوی کردی۔

ELECTION COMMISSION

Faisal Wavda

Tabool ads will show in this div