سیالکوٹ واقعہ،13مرکزی ملزمان گرفتار، آئی جی پنجاب پولیس

مقتول کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے اور وزارت داخلہ سری لنکن سفارت خانے کومیت دے گی

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/IG-Punjab-Rao-Sardar-Pc-Lhr-04-12.mp4"][/video]

آئی جی پنجاب پولیس راؤ سردار علی خان نے بتایا ہے کہ سیالکوٹ واقعے میں ملوث13 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

ہفتے کولاہور میں ترجمان پنجاب حکومت حسان خاوراورآئی جی پنجاب راؤ سردارعلی خان نے پریس کانفرنس میں  سیالکوٹ کی فیکٹری میں جمعہ کوتشدد سے غیر ملکی شہری کی موت کے واقعے سے متعلق بات کی۔

حسان خاور نے بتایا کہ اس واقعہ کا مقدمہ پولیس کی مدعیت میں درج کیاگیا ہے۔24 گھنٹوں میں پولیس نے200 چھاپے مارے اور13مرکزی ملزمان سمیت 118 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے کی 107 کیمروں سے 12 گھنٹے کی فوٹیج حاصل کی اورسی ڈی آر اور موبائل ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جب کہ ویڈیو فرانزک جاری ہے۔

حسان خاورنےبتایا کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم ہوچکا ہے اور وزارت داخلہ سری لنکن سفارت خانے کومیت دے گی جبکہ کسی شخص سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ انھوں نے واضح کردیا کہ اگر اس واقعے میں سرکاری اہلکاروں کی غفلت ثابت ہوئی تو باقاعدہ کارروائی ہوگی۔

اس موقع پر آئی جی پنجاب راؤ سردارعلی خان نے بتایا کہ سیالکوٹ فیکٹری کے جھگڑے کا آغاز 10 بج کر 2 منٹ پر ہوا اور11 بج کر 5 منٹ پرغیر ملکی شہری کی ہلاکت ہوئی۔ واقعے کی اطلاع ملنے پرپولیس موقع پر پہنچی توغیرملکی شہری کی ہلاکت ہوچکی تھی تاہم پولیس نے امن وامان پر قابو پایا اور24 گھنٹے سے کم وقت میں 200 سے زائد مقامات پر چھاپے مارے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام پر سری لنکن شہری کوسرعام جلادیاگیا

انھوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر پولیس کو علم نہیں تھا کہ واقعے کی حساسیت کیا ہے ۔جائے وقوعہ کے نزدیک سڑک بلاک تھی اور ڈی پی او 15 منٹ پیدل چل کر وہاں گئے اوراطلاع ملنے کے سولہ سترہ منٹ بعد پولیس کا پہلا ریسپانڈ ہوا۔

حسان خاورکےمطابق  800 سے 900 افراد وہاں موجود تھے اور پولیس کو پہلی اطلاع ملنے تک غیر ملکی شہری کو ہلاک کیا جاچکا تھا۔ آئی جی پنجاب نے بتایا کہ سب کچھ فیکٹری کے اندر ہوا ہے اور فیکٹری کے اندر پولیس یا انٹیلی جنس نہیں ہوتی ہے۔ راؤ سردار نے بتایا کہ 13 مرکزی ملزمان نے اعترافی بیان بھی دیا ہے۔

ابتدائی رپورٹ وزيراعلیٰ عثمان بزدارکوارسال:۔

سيالکوٹ واقعےکی ابتدائی رپورٹ محکمہ قانون پنجاب نے وزيراعلیٰ عثمان بزدار کو ارسال کردی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیالکوٹ کی فیکٹری میں مارپیٹ کا واقعہ صبح 11بجےکےقریب شروع ہوا اور اس وقت فیکٹری مالکان غائب ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق اس واقعے کے مرکزی ملزم سميت 120افراد گرفتار ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایسےافراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے کہ جنہوں نےاس واقعے میں عوام کو اشتعال دلایا۔ یہ گرفتاریاں فیکٹری مینجرزکی معاونت سے لوگوں کو شناخت کرکے کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کچھ غیرملکی کمپنیوں کے وفد نےفیکٹری کادورہ کرنا تھا اور فیکٹری مینجر نے مشینوں کی مکمل صفائی کا حکم دیا تھا۔

شاہ محمود قریشی کا بیان:۔

لاہور میں ہفتے کووزيرخارجہ  شاہ محمود قريشی نے صحافیوں سے بات کرتےہوئے بتایا کہ سیالکوٹ واقعہ باعث ندامت ہے اوروزیراعظم نے اس واقعے کا نوٹس لےلیا ہے۔ اس واقعے کی تحقیقات ہورہی ہیں اور امید ہے کہ 48گھنٹے میں پتہ چل جائے گا کہ حقیقت کیاہے۔

شاہ محمودقریشی نے بتایا کہ سری لنکن ہائی کمشنرکےساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اورسیالکوٹ واقعےسےسری لنکاکے ساتھ تعلقات متاثرنہیں ہونگے۔

انھوں نے یقین دلایا کہ متاثرہ فیملی سےرابطہ کیا ہے اورجیساوہ چاہیں گےوہی کریں گے۔

Tabool ads will show in this div