مقبوضہ کشمیر:اقوام متحدہ کاانسانی حقوق کےکارکنوں کی گرفتاری پراظہار تشویش

او ایچ سی ایچ آر کے کمشنر کا خرم پرویز کی فوری رہائی کا مطالبہ
اقوام متحدہ نے یکم دسمبر کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کے ایک سرکردہ کارکن خرم پرویز کی انسداد دہشت گردی جیسے سخت قوانین کے تحت گرفتاری پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے او ایچ سی ایچ آر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہمیں کشمیری انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کی انسداد دہشت گردی جیسے بھارتی قانون کے تحت گرفتاری پر گہری تشویش ہے۔ ادارے کے ترجمان روپرٹ کولوائل کا کہنا تھا کہ وہ اس بات سے ابھی لا علم ہیں کہ خرم پر کس نوعیت کے الزامات عائد کیے گئے ہیں تاہم یہ سچ ہے کہ وہ انسانی حقوق کے ایک سچے محافظ ہیں اور س سے قبل بھی انسانی حقوق کے کاموں کے لیے انہیں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سن 2016 میں بھی جنیوا میں انسانی حقوق کی کونسل کے سفر کے لیے انہیں روک دیا گیا تھا اور ایک متنازعہ قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت ڈھائی ماہ تک انہیں حراست میں رکھا گیا تھا۔ پھر جب جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی کو غیر قانونی قرار دیا تب انہیں رہا کیا گیا تھا۔ خیال رہے کہ قابض بھارتی حکومت کے انتظامیہ متنازع ایکٹ (یو اے پی اے) مقبوضہ کشمیر میں کسی بھی شخص کو بغیر کسی سماعت کے مہینوں جیل میں رکھا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی اس قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اسے بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون اور معیار کے مطابق بنایا جا سکے۔ واضح رہے کہ انسانی حقوق کے عالمی شہرت یافتہ کارکن خرم پرویز کو اب تک کئی بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا جا چکا ہے۔ چوالیس سالہ خرم پرویز جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیم جموں کشمیر کولیشن آف سول سوسائٹی کے پروگرام کوآرڈینیٹر اور ایشین فیڈریشن اگینسٹ ان والینٹیری ڈس اپیرنسیز کے چیئر پرسن بھی ہیں۔ انہیں 22 نومبر کو بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی این آئی نے دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے الزام میں گرفتار کیا تھا اور پھر تفتیش کے لیے دہلی لایا گيا جہاں انہیں تہاڑ جیل میں رکھا گيا ہے۔

kashmir issue

UNITED NATION

Kashmiri HR activists

Tabool ads will show in this div