ڈالر نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا

یورو، سعودی ریال، یواےای درہم کی قدر بھی بڑھ گئی
Dec 03, 2021
[caption id="attachment_2437533" align="alignnone" width="800"]DOLLAR_NEW_1 فوٹو: آن لائن[/caption]

مقامی کرنسی مارکیٹوں میں جمعہ کو بھی پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی اونچی اڑان کا سلسلہ برقرار رہا اور انٹر بینک میں ڈالر مزید 35پیسے کے اضافے سے176.77روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جب کہ اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں بھی90پیسے کا اضافہ ہوا اور ایک ڈالر کی قیمت 178.70روپے ہوگئی جو ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔

واضح رہے کہ ڈالر کی قدر بڑھنے کا حالیہ رجحان 26نومبر کو شروع ہوا تھا جب کہ انٹر بینک میں ڈالر 48پیسے کے اضافے سے 175.46روپے ہوگیا تھا، اس کے بعد اب تک ایک ہفتے میں ڈالر کی قدر 1.79روپے بڑھ چکی ہے۔

اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 26نومبر کو 178.30روپے کی بلند سطح پر پہنچنے کے بعد 29نومبر کو 177.50روپے اور یکم دسمبر کو 176.50روپے پر آگیا تھا لیکن جمعرات 2دسمبر کو اوپن مارکیٹ میں ڈالر پھر 177.80روپے کا ہوگیا اور جمعہ 26نومبر کو ریکارڈ توڑ کر 178.70روپے کی سطح پر پہنچ گیا۔

ڈالر بڑھنے کی وجہ گزشتہ ماہ نومبر میں پاکستان کی درآمدات کا 8ارب ڈالر تک پہنچنا ہے جو کسی بھی ایک ماہ درآمدات کا ریکارڈ ہے جس کے نتیجے میں نومبر میں تجارتی خسارہ 5ارب روپے اور رواں مالی سال کے پہلے پانچ ماہ جولائی تا نومبر کے دوران تجارتی خساہ 20.75ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجارتی خسارہ بڑھنے کے سبب ملکی زرمبادلہ کے ذخائر پر بھی دبؤ بڑھ گیا ہے اور اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق 26نومبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذرمبادلہ کے ذخائر 27.5کروڑ ڈالر کی کمی سے 16.01ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ زر مبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ کی وجہ سے پاکستانی روپے بھی اپنا قدر کھو رہا ہے۔

پاکستانی روپے کے مقابلے میں دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قدر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور فوریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق یورو 200روپے سے بڑھ کر 201روپے، سعودی ریال 47.20روپے سے بڑھ کر 47.30روپے اور یو اے ای درہم کی قدر 49روپے سے بڑھ کر 50روپے ہوگئی جبکہ چینی یوآن 28روپے اور برطانوی پاونڈ 236روپے بغیر کسی تبدیلی کے مستحکم رہا۔

معاشی ماہرین کے مطابق حکومت کی جانب سے درآمدات کم کرنے کے لیے اقدامات زیر غور ہیں، اس کے علاوہ سعودی عرب سے تین ارب ڈالر بھی ملنے ہیں جس سے پاکستانی روپے پر دباؤ میں کمی آئے گی۔