آغا سراج درانی کو نیب حکام نے گرفتار کرلیا

سندھ ہائیکورٹ نے درخواست ضمانت مسترد کی تھی
فائل فوٹو
فائل فوٹو
فائل فوٹو

اسلام آباد میں نیب حکام نے اسپیکر سندھ اسمبلی سراج درانی کو گرفتار کرلیا، انہیں نیب راولپنڈی منتقل کردیا گیا جہاں سے کل راہداری ریمانڈ ملنے کے بعد سندھ منتقل کیا جائے گا۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کو سرینڈر کرنے کا حکم دیا تھا، جب کہ آئندہ ہفتے اس کیس کی سماعت کی جائے گی۔

کئی ہفتوں سے روپوش اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی ضمانت قبل ازگرفتاری کیلئے 3 دسمبر بروز جمعہ سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر عدالت نے آغا سراج درانی کو پہلے گرفتاری دینے کی ہدایت کی۔ جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کا حکم نہیں دے سکتے، ہم نے قانون کے مطابق چلنا ہے۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیئے کہ سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت خارج ہونے کے بعد ضمانت بعد از گرفتاری کیسے کی گئی، ملزم نے نیب کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔

اس موقع پر آغا سراج درانی کے وکیل نے عدالت کے روبرو کہا کہ عدالت کے سامنے موکل نے سرینڈر کر دیا ہے، ہمیں کم از کم ٹرائل کورٹ کے سامنے سرینڈر کرنے کی اجازت دیدیں۔ جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس طرح کے سرینڈر کو عدالت نہیں مانتی۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ آئندہ ہفتے اس کیس کی سماعت کریں گے۔ عدالت نے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو احاطہ عدالت سے گرفتار نہ کرنے کی استدعا بھی مسترد کردی۔

عدالتی سماعت ختم ہونے پر سراج درانی 4 گھنٹے تک سپریم کورٹ کی عمارت کے اندر اور نیب ٹیم ان کی گرفتاری کے لیے عدالت کے باہر موجود رہی، تاہم بعد ازاں آغا سراج درانی نے سپریم کورٹ کے باہر نیب حکام کو گرفتاری دے دی۔

اسلام آباد میں سپریم کورٹ پاکستان سے گرفتار اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو نیب راولپنڈی منتقل کردیا گیا، جہاں ان کا میڈیکل چیک اپ کرایا جائے گا، آغا سراج درانی آج رات نیب راولپنڈی کی حوالات میں گزاریں گے، انہیں کل راہداری ریمانڈ لینے کے بعد سندھ منتقل کیا جائے گا۔

نیب نے سراج درانی کے 1985ء سے 2018ء تک کے اثاثوں کی تحقیقات کیں۔ نیب کے مطابق آغا سراج درانی کی کئی بے نامی جائیدادیں ہیں، بے نامی جائیدادوں کا تعلق آغا سراج درانی کے ڈرائیورز اور ملازمین سے ہے، بینک لاکرز سے غیر ملکی کرنسی، قیمتی گھڑیاں اور دیگر بیش قیمت سامان ملا، آغا سراج درانی کی آمدن اور اثاثوں میں ایک ارب 60 کروڑ روپے کا فرق ہے۔

کیا آپ گھبرا رہے ہیں؟

گرفتاری کے بعد صحافی نے جب آغا سراج درانی سے سوال کیا کہ سر آپ گھبرا تو نہيں رہے؟، جس پر اسپیکر سندھ اسمبلی نے کہا کہ آپ اتنی دير سے ميرے ساتھ بيٹھے تھے، آپ نے کيا ديکھا؟۔ بعد ازاں نیب حکام سراج درانی کو لیکر روانہ ہوگئے۔

حکم نامہ جاری

سپریم کورٹ نے آغا سراج درانی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے سراج درانی کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ سراج درانی کے وکیل نے سرنڈر کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ سراج درانی نیب اتھارٹی کے سامنے سرنڈر کریں گے۔ درخواست ضمانت کی پیروی کیلئے نیب کے سامنے سرنڈر کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ رواں سال اکتوبر میں سندھ ہائی کورٹ نے اثاثہ جات کیس میں اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کی ضمانت مسترد، جب کہ اہلیہ اور بیٹوں کی ضمانت منظور کرلی تھی، جس کے بعد سے آغا سِراج درانی روپوش تھے۔ آغاز سراج درانی کی ضمانت کی درخواست سندھ ہائی کورٹ سے مسترد ہونے کے بعد آغا سراج درانی نے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس ندیم اختر اور جسٹس اقبال کلہوڑو پر مشتمل خصوصی بینچ نے درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

مزید جانیے: آغا سراج درانی سمیت 8ملزمان کی درخواست ضمانت مسترد

ضمانت قبل از گرفتاری منسوخی کے بعد نیب نے آغا سِراج درانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ نیب کے مطابق آغا سراج درانی و دیگر کی گرفتاری کے لیے جدید ڈیوائسز کا استعمال کیا جا رہا ہے، آغا سراج اور ذوالفقار ڈاہر کی آخری لوکیشن کراچی کی تھی۔

عدالت آمد پر آغا سراج درانی نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ انصاف کی امید لیکرعدالت آیا ہوں،واپسی پر میڈیا سے بات کروں گا۔

آغا سراج درانی پر الزامات

خیال رہے کہ نیب نے آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ، بچوں، بھائی اور دیگر پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بنائے گئے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

اسپیکر سندھ اسمبلی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر معلوم آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں فروری 2019 میں اسلام آباد کی ایک ہوٹل سے گرفتار بھی کیا تھا۔

بعدازاں 21 فروری کو انہیں کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا ریمانڈ منظور کیا اور اس میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔

تاہم 13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم اگلے ہی روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا تھا۔

عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر نیب کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں احتساب عدالت میں آغا سراج درانی اور اہلخانہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر ہے جس میں گزشتہ برس 30 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

Tabool ads will show in this div