بلدیہ عظمیٰ کراچی ميں موجود کرپشن کا سسٹم تاحال برقرار

صرف ايک ٹھيکے ميں 72 لاکھ روپے کا چونا لگا ديا

بلدیہ عظمیٰ کراچی ميں موجود کرپشن کا سسٹم تاحال برقرار ہے۔ چارجڈ پارکنگ کے صرف ايک ٹھيکے ميں 72 لاکھ روپے کا چونا لگا ديا گيا۔

کراچی میں جتنے وسائل بلدیہ عظمی جمع کرتا ہے اس سے کہیں زیادہ  وسائل ادارے میں موجود کرپشن کا سسٹم  جمع کرکے لے جاتا ہے۔ پارکنگ کے صرف ایک ٹھیکے میں ہونے والی ہیرپھیر نے ہی بلدیہ عظمیٰ کوبڑے ریونیو سے محروم کردیا ہے۔

 فروری 2021 میں حیدری مارکیٹ کے سامنے چارجڈ پارکنگ  اور اتوارکے موٹرسائیکل  بازار کے ٹھیکوں کی نیلامی ہوئی۔کےایم سی کے ریکارڈ کے مطابق حیدری پارکنگ لاٹ کی نیلامی میں 75لاکھ 50ہزار کی بولی فائنل ہوئی۔اسی طرح  حیدری اتوار موٹرسائیکل بازار کے ٹھیکے کی نیلامی 20 لاکھ90ہزار میں  منظور ہوئی۔صرف ایک حیدری مارکیٹ  پارکنگ لاٹ کی مجموعی  بولی 96لاکھ40 ہزار لگنے پر کےایم سی میں کرپشن کا سسٹم فعال ہوگیا اوراس وقت کےایڈمنسٹریٹر کے ایم سی لئیق احمد نے اس نیلامی کو منسوخ کردیا۔جس سائٹ کی بولی 2 حصوں میں 96 لاکھ 40 ہزار روپے تک پہنچ گئی تھی،اس کے دونوں ٹھیکوں کویکجا کرکے24لاکھ 60 ہزار روپے میں  ٹھکانے لگا دی گئی۔

ٹیم سماء نےتحقیقات کیں توپتہ چلا کہ حیدری مارکیٹ کی 2 سائٹس کوایک کرنےاور تین چوتھائی کم بولی میں نیلامی کا مقصد ''سسٹم'' کے ٹھیکیدار کونوازنا تھا کیونکہ جب فروری میں حیدری مارکیٹ کی پارکنگ کی 75 لاکھ 50 ہزارروپےمیں  نیلامی جیت لی تھی اس وقت  وہ بولی دہندہ چوتھے نمبر پر تھا اوروہ بولی منسوخ ہوئی تھی۔اگست میں  ایسی کایا پلٹی کہ حیدری مارکیٹ اوراتوارموٹرسائیکل بازار کا ٹھیکہ ملا کر 24 لاکھ روپے میں دے دیا گیا۔

حیدری مارکیٹ  کے بعدکلفٹن بیچ ویوپارک  کی پارکنگ کی نیلامی کے بغیر ہی  کےایم سی کے''سسٹم'' کا مخصوص ٹھیکیدار چلارہا ہے۔ڈائریکٹر  کے ایم سی چارجڈ پارکنگ سمیرا حسین نے بتایا ہے کہ یہ نیلامی اس لئے نہیں کی کیوں کہ کمیٹی نے تجویز نہیں دی تھی۔

سماء نے کلفٹن بیچ ویو پارکنگ کے معاملات کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو''سسٹم'' کے مخصوص ٹھیکدار کا نام بھی  سامنے آگیا۔نیلامی کے بغیر کلفٹن بیچ ویو پارکنگ کا انتظام  چلانے والے ٹھیکیدار اقبال  کاکڑ کا سوال ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب سے کیا تو انہوں نے اقبال کاکڑ جيسے سسٹم کے مزيد ٹھيکييداروں کی موجودگی کا بھی اعتراف کر ليا۔

کے ایم سی حکام کے مطابق  ریونیو میں چارجڈ پارکنگ کا حصہ بہت کم ہےلیکن چارجڈ پارکنگ میں ہونے والا یہ گڑبڑ گھٹالا بتانے کے لیئے کافی ہے کہ کےایم سی  میں موجود کرپشن کا ''سسٹم'' ریونیو کے دوسرے ذرائع میں کیسے غبن ہورہے ہوں گے۔

Tabool ads will show in this div