امریکا میں اومی کرون کا پہلا کیس سامنے آگیا

کیس لاس اینجیلیس میں سامنے آیا
Dec 02, 2021

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے بعد امریکا میں بھی کرونا کی اومی کرون ویرینٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکا میں پہلا کیس لاس اینجیلیس میں سامنے آیا ہے۔ متاثرہ شخص جنوبی افریقہ سے 22 نومبر کو امریکا آیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق اومی کرون سے متاثرہ شخص ویکسین کا کورس مکمل کر چکا تھا، مریض کا علاج جاری ہے۔ متاثرہ شخص کی حالت بہتر ہو رہی ہے اور یہ مثال اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ لوگوں کو ویکسین کے علاوہ بوسٹر شاٹس بھی لگوانے چاہیں۔ طبی حکام نے زور دیا ہے کہ بوسٹر شاٹ لگوانا بہت ضروری ہے۔

عالمی ادارہ صحت

دوسری جانب عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم نے کہا ہے کہ تمام ممالک پُرسکون رہ کر اومی کرون کے خلاف حقیقی اقدامات کریں۔

انہوں نے کہا کہ نئے ویرینٹ اومی کرون سے متعلق ابھی بہت سے سوالات جواب طلب ہیں، تمام ممالک منطقی، متناسب اور خطرے میں کمی لانے والے اقدامات کریں۔

Reuters file

وائٹ ہاوس

وائٹ ہاوس کی جانب سے اس بات کا اعلان بدھ کے روز کیا گیا جبکہ سائنسدان ابھی وائرس سے لاحق نئے خطرات پر تحقیق کر رہے ہیں۔ متعدی امراض اور الرجی کے قومی انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر انتھنی فاوچی نے کہا ہے کہ وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہونے والا شخص 22 نومبر کو جنوبی افریقہ سے امریکہ واپس آیا تھا اور اس میں اومیکرون وائرس کی تشخیص 29 نومبر کو ہوئی۔

ڈاکٹر فاوچی

ڈاکٹر فاوچی نے کہا کہ متاثرہ شخص نے ویکسین لگوا رکھی تھی لیکن اس نے ابھی بوسٹر شاٹ نہیں لگوایا تھا اور اس نے کووڈ کی ہلکی علامات کی شکایت کی تھی۔ واضح رہے کہ نئے وائرس کی دریافت کے بعد صدرجو بائیڈن کی انتظامیہ نے جنوبی افریقہ پر سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔

ڈاکٹر فاوچی نے وائٹ ہاوس میں بتایا کہ ہم جانتے تھے کہ یہ تھوڑے ہی وقت کی بات ہے کہ امریکا میں بھی اومیکرون وائرس کا کوئی کیس سامنے آجائے گا۔ اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں بتایا گیا تھا کہ کروناوائرس کی نئی قسم اومیکرون کے پھیلاو کو روکنے کے لیے صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ امریکہ آنے والے تمام بین الاقوامی مسافروں کے لیے ٹیسٹنگ لازمی قرار دینےکا فیصلہ کرے گی۔ ٹیسٹنگ ان لوگوں کے لیے بھی لازمی ہوگی جو کووڈنائنٹین سے بچاو کی ویکسین لگوا چکے ہوں گے۔

حکام اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ تمام مسافروں کو آمد کے بعد سات روز کے لیے قرنطینہ میں رہنے کا کہا جائے اور ان کے لیے امریکہ آنے کے بعدتین روز کے اندر دوبارہ کووڈ نائنٹین کا ٹیسٹ کروانا لازمی ہو۔ اومیکرون وائرس کے خطرے کے پیش نظر کیے جانے ان تمام اقدامات کا اطلاق ان تمام امریکی شہریوں پربھی ہوگا جو بیرون ممالک سے وطن لوٹیں گے۔

سفری پابندیاں

امریکا ان ممالک میں شامل ہے جنہوں نے اومیکرون قسم کے وائرس کے جنوبی افریقہ میں گزشتہ ہفتے دریافت ہونے کے بعد اس کی انسداد کی غرض سے سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔ بدھ کو جاپان نے تمام بین الاقوامی ایئرلائنز سے کہا کہ وہ دسمبر کے آخر تک جاپان آنے والی پروازوں کے لیے مسافروں کی ریزرویشن کو روک دے۔ خیال رہے کہ جاپان میں اس نئے وائرس سے اب تک سرکاری اعدادو شمار کے مطابق دو افراد متاثر ہوئے ہیں۔

جاپانی حکومت نے جمعرات سے جاپان میں بسنے والے ان تمام تارکین وطن پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے جو جنوبی افریقہ اور نو دوسرے افریقی ممالک سے روانہ ہوں گے۔ دوسری جانب سعودی عرب اور نائجیریا نے اومیکرون وائرس کے اپنے ملکوں میں پہلے کیسوں کی تشخیص ہونے کا اعلان کیا ہے۔

قبل ازیں عالمی ادارہ صحت نے ایسے تمام افراد کو بین الاقوامی سفر سے پرہیز کرنے کو کہا ہے جو ذیابیطس کا شکار ہیں اور جنہوں نے کرونا سے بچاؤ کی ویکسین نہیں لگوائی کیونکہ وائرس سے متاثر ہونے کی صورت میں ان کی زندگیوں کو شدید خطرہ درپیش ہوگا۔ عالمی ادارے نے تمام بین الاقوامی سفر پر پابندی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ ایسا اقدام لوگوں کی صحت کو بہتر بنانے کی کوششوں کے ضمن میں منفی اثرات مرتب کرے گا کیونکہ ایسی سفری پابندی کے باعث ملک اپنے ملک کے صحت کے متعلق ڈیٹا کو چھپانے کی کوشش کریں گے۔

USA

OMICRON