لاہور:اسموگ میں اضافہ،ہائیکورٹ کا ماحولیاتی لاک ڈاؤن لگانے کا عندیہ

لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے خاتمے سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت
Dec 01, 2021

[caption id="attachment_2445493" align="alignnone" width="680"]Lhr smog 2 فوٹو: آن لائن[/caption]

لاہور میں اسموگ میں اضافے کےباعث ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے ماحولیاتی لاک ڈاؤن لگانے کا عندیہ دے دیا ہے۔اس دوران اسکول، دفاتر اور نجی اداروں کو ایک ہفتے بند کرنا پڑسکتا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ میں اسموگ سے متعلق دائر درخواستوں پر سماعت ہوئی۔ جسٹس شاہد کریم نے اسموگ سے متعلق شیراز ذکا اور اظہر صدیق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران مئیرلاہور کرنل (ریٹائرڈ) مبشرجاوید،ڈپٹی ڈائریکٹر ماحولیات، پی ڈی ایم اے اور ماحولیاتی کمیشن کے نمائندے عدالت میں پیش ہوئے۔

جوڈیشل واٹر اینڈ انوائرمنٹل کیمشن نے ماحول دشمنوں کے خلاف کاروائیوں کی رپورٹ جمع کروا دی۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب بھر کے 6 ہزار 2 سو 77 بھٹوں کی انسپکشن کی گئی اورماحول آلودہ کرنے والے 8 سو 65 بھٹہ مالکان کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے جبکہ 26 بھٹہ مالکان کو فوری گرفتار کروا دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آلودگی کا باعث بنانے والے 336 بھٹوں کومکمل طور پر سیل کردیا گیا ہے۔آلودگی کا باعث بنانے والے بھٹوں کو4 کروڑ 78 لاکھ روپے کے جرمانے کیے گئے۔

اس کےعلاوہ پنجاب بھرمیں دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو 63 لاکھ 52 ہزار روپے کے زائد جرمانے کیے گئے اور 18 ہزار 1 سو 34 ایسی گاڑیوں کووارننگ جاری کی گئی۔

رپورٹ کےمطابق دھواں چھوڑنے والی 441 فیکٹریوں کوسیل اور4 سو 81 یونٹس کو سیل کردیا گیا۔ فصلوں کی باقیات جلانے والے1 ہزار ایک سو 55 افراد کے خلاف مقدمات درج کروائے گئے اور1 کروڑ 24 لاکھ روپے سےزائد کے جرمانے کیے گئے۔

لاہور ہائی کورٹ صوبے میں کلائمیٹ ایمرجنسی نافذ کرنے کا فیصلہ آئندہ ہفتے اسموگ کا جائزہ کے لیے کرے گی۔کلائمیٹ ایمرجنسی سے متعلق عدالت نےآئندہ ہفتے تمام متعلقہ اداروں کو رپورٹ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ مئیر لاہور نے بتایا کہ اسٹیل فیکٹریاں ناکارہ ٹائر جلا کر خطرناک دھواں چھوڑتی ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ اس معاملے کی فوری شکایت جوڈیشل واٹر انوائرمنٹل کمیشن کوکردی جائے۔عدالت نے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی ہے۔

SMOG

Tabool ads will show in this div