جماعت اسلامی کراچی کا7مقامات پردھرنا، ٹریفک پلان جاری نہ ہوسکا

دھرنے کے مقامات درج ذیل ہیں
فوٹو: آن لائن
فوٹو: آن لائن
JI Protest فوٹو: آن لائن

سندھ حکومت کے نئے بلدیات بل کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے تحت آج شہر کے سات اہم مقامات پر احتجاجی دھرنے دیے جائیں گے تاہم اس متعلق ٹریفک پلان جاری نہیں کیا گیا۔

جماعت اسلامی کراچی نے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں سات مقامات کا بتایا گیا ہے۔

ان مقامات میں اسٹار گیٹ شارع فیصل، پرانی سبزی منڈی نزد عسکری پارک مین یونیورسٹی روڈ، پاور ہاؤس چورنگی نارتھ کراچی، ڈالمین مال حیدری نارتھ ناظم آباد، اورنگی ٹاؤن پونے پانچ چورنگی، واٹر پمپ چورنگی فیڈرل بی ایریا، مین شیر شاہ روڈ، حسن اسکوائر، ڈی سی آفس کورنگی ڈھائی ڈبل روڈ، ہیڈ آفس کے ایم سی بلڈنگ ایم اے جناح روڈ اور ڈی سی آفس ملیر قائد آباد شامل ہیں۔

ٹریفک پلان کے لیے سماء ڈیجیٹل کی جانب سے رابطہ کرنے پر انسپکٹر اقبال نے بتایا کہ محکمہ ٹریفک پولیس دھرنے سے متعلق آگاہ ہے تاہم فی الحال کوئی ٹریفک پلان جاری نہیں کیا گیا، جیسے ہی کوئی پلان جاری ہوگا تو معلومات فراہم کی جائیں گی۔

جماعت اسلامی کی جانب سے احتجاجی دھرنے شام 4بجے شروع ہوں گے جس کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

واضح رہے کہ 29نومبر کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمٰن نے بلدیاتی بل کو ’’کالا قانون‘‘ قرار دیتے ہوئے شہر میں احتجاجی دھرنوں کا اعلان کیا تھا۔

حافظ نعیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کا بلدیاتی نظام کا بل کراچی کے تین کروڑ لوگوں کو غلام بنانے اور کراچی کے اداروں پر قبضہ کرنے کا بل ہے۔

لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء

سندھ حکومت نے 26نومبر کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں ترامیم منظور کی تھیں، جس کے تحت بلدیاتی نظام کا موجودہ ڈھانچہ تبدیل ہونے جا رہا ہے۔

ضلع میونسپل کارپوریشنز ڈی ایم سی کو ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ٹی ایم سی میں تبدیل کیا جائے گا۔

ترمیم شدہ ایس ایل جی اے میں محکمہ تعلیم اور محکمہ لوکل ٹیکس (اشتہار) میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کام کریں گے۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ایس ایل جی او 2001 کی طرز پر کے ایم سی کے تحت کام کریں گی جہاں ٹاؤن انتظامیہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی (سی ڈی جی کے) کے تحت کام کررہی تھی۔

بلدیاتی نظام میں ترامیم کے تحت ٹی ایم سی کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، اور وہ آبادی کی مخصوص تعداد پر بنائی جائیں گی۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے ایم سی کے میئر کی اجازت سے ٹیکس اور فیسیں وصول کریں گی۔

ترامیم کے مطابق ٹیکس جمع کرنے کا اختیار میئر کے ہاتھ میں ہوگا، جو ٹی ایم سی کو ٹیکس اور فیس جمع کرنے یا نہ کرنے کی اجازت دیں گے جبکہ سندھ حکومت کے ایم سی پر کوئی بھی نیا ٹیکس لگانے کی مجاز ہوگی۔

شہری سندھ میں یونین کمیٹیاں جبکہ دیہی سندھ میں یونین کونسلز موجود رہیں گی۔

Tabool ads will show in this div