پری زاد کی 'عینی' آتے ہی چھاگئی

ناظرین کو اس کردارکاسب سے زیادہ انتظارتھا

پری زاد بلاشبہ وہ ڈرامہ ہے جو رواں سہ ماہی میں ' ٹاک آف دی ٹاؤن' بن کر ناظرین کے دلوں پرراج کررہا ہے۔

ڈرامے کی کہانی معاشرے میں نظرانداز کیے جانے والے انسان کی جدوجہد پرمبنی ہے جوخود کو ثابت کرنے کے لیے نکلتا ہے اوراپنے بل بوتے پر پڑھائی میں سبقت لے جاتے ہوئے محنت وعزم کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔

پری زاد منفرد پلاٹ ، مضبوط مکالموں، دلوں کو چھو جانے والی والی شاعری، اورمعاشرتی مسائل کی دیانت دارانہ عکاسی کے باعث ابتداء سے ہی ناظرین کے دلوں میں جگہ بنائے ہوئے ہے اور ہرگزرتے دن کے ساتھ اس کی پسندیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ڈرامے کی مقبولیت کی ایک اوروجہ محبت کی تثلیت یا روایتی ساس بہو کی کہانیوں سے ہٹ کرہونا ہے جنہیں بلاشبہ ریٹنگ تو ملتی ہے لیکن ناقدین کی جانب سے اعتراضات بھی اٹھائے جاتے ہیں۔

عشناء شاہ کے بعد صبورعلی، مشال خان اورعروہ حسین کے بعد ناظرین پری زاد کو سب کی پسندیدہ یمنیٰ زیدی کے ساتھ دیکھنے کے بےچینی سے منتظرتھے اور گزشتہ رات نشر کی جانےوالی قسط سے ان کا یہ انتظار ختم ہوا۔

ڈرامے کی 20 قسط سے انٹری دینے والی یمنیٰ نے آرجے کے کردارمیں اسکرین پرآتے ہی اپنا آپ منوا لیا۔ اس قسط کو چند گھنٹوں میں 40 لاکھ باردیکھاجاچکا ہے۔

یمنیٰ کی انٹری کے ساتھ ہی ان کا نام ٹوئٹرٹاپ بن چکا ہے، سوشل میڈیاصارفین کے پاس اپنی پسندیدہ ' آر جے عینی' اور پری زاد سے متعلق کہنے کیلئے بہت کچھ ہے جس کا اظہار انہوں نے ٹویٹس میں کیا۔

لکس اسٹائل ایوارڈز میں اپنے گزشتہ مقبول ترین ڈرامے' پیار کے صدقے' کیلئے 2 ایوارڈز جیتنے والی یمنیٰ آئی ایس پی آر کے اشتراک سے تیار کیے جانے والے ڈرامہ ' صنف آہن' کے مرکزی کرداروں میں بھی شامل ہیں جس کی پہلی قسط گزشتہ ہفتے نشرکی گئی۔

ڈرامہ' پری زاد' ہاشم ندیم کے اسی نام سے لکھے جانے والے ناول پر مبنی ہے جس کے ڈائریکٹرشہزاد کاشمیری ہیں۔ ہاشم ندیم کے کریڈٹ پراس سے قبل 'خدا اورمحبت ' اور 'رقص بسمل ' جیسے ڈرامے ہیں۔

Ahmed Ali Akbar

YUMNA ZAIDI

PARIZAAD

Tabool ads will show in this div