این سی اوسی کی بوسٹرویکسین 3کیٹیگریز میں لگانےکی منظوری

بوسٹر ویکسین مفت لگوائی جاسکے گی
Dec 25, 2021

 

[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/12/Corona.mp4"][/video]

این سی او سی نےکرونا سے بچاؤ کیلئے بُوسٹر ویکسین3کیٹیگریزمیں لگانےکی منظوری دے دی ہے۔

بدھ کواین سی او سی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ہیلتھ کیئر ورکرز اور 50سال سے زائد عمر والے افراد بوسٹر ویکسین کے لیے پہلی ترجیح ہونگے۔ کمزورقوت مدافعت والے افراد بھی بوسٹرویکسین لگواسکیں گے۔ بوسٹرویکسین پہلی ویکسینشن کے6ماہ بعد لگوائی جاسکتی ہے۔

این سی او سی نے بتایا ہے کہ بوسٹر ویکسین مفت لگوائی جاسکے گی۔ یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ کرونا کی نئی قسم اومی کرون تیزی سے پھیل رہی ہے اوراس سے بچاؤ کا واحد راستہ ویکسینیشن اور ایس اوپیزپرعمل ہے۔

اجلاس میں صوبائی نمائندوں نے بھی کرونا کی نئی قسم پر توجہ دینے کی ضرورت پر زوردیا۔ صوبائی نمائندوں نے ائیرپورٹس پر ویکسینیشن اور چیکنگ پروٹوکولز بڑھانے کی تجویز دی۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صوبے اور متعلقہ حکام ویکسینیشن سے متعلق زیرو ٹالیرنس کی پالیسی  اپنائیں۔ اجلاس میں لازمی ویکسینیشن کیلئے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ عوامی مقامات پر ویکسیینیشن ٹیمیں ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ سندھ کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ فائزر ویکسین کے بوسٹر شاٹ کراچی بھر کے تمام ویکسین مراکز اور اسپتالوں میں محدود تعداد میں دستیاب ہے اور لوگوں کی مخصوص تعداد ہی مفت ویکسین لگوا سکتی ہے۔عوام کو بوسٹر شاٹ ایک ہزار 270 روپے میں دستیاب ہوگی اور اس کے لیے نیشنل بینک آف پاکستان میں چالان جمع کروانا ہوگا۔صوبائی وزیر صحت ڈاکٹرعذرا پیچوہو کا کہنا ہے کہ مفت ویکسین لگانے کے لیے سندھ کو 20 سے 30 لاکھ ویکسین کی خوراک کی ضرورت ہے۔

جنوبی افریقہ میں پائی جانے والی کرونا کی نئی قسم اومی کرون کو عالمی ادارہ صحت نے انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ محقيقن کو وائرس کی نئی قسم کے اثرات سمجھنے ميں وقت لگے گا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ يہ ويکسينز کے مقابلے ميں بھی زيادہ مزاحمت کرسکتی ہے۔

جنوبی افریقہ کے وزیرِ صحت جوپا ہلا کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کے نئے ویریئنٹ کے بارے میں سائنس دان بتا رہے ہیں کہ یہ تیزی سے تغیر پذیر ہونے والی قسم ہے۔ اس سے ملک کے سب سے زیادہ گنجان آباد صوبے گاؤتنگ میں زیادہ تر نوجوان متاثر ہوئے ہیں۔

کیا اومیکرون ویرینٹ 15 منٹ میں پھیپھڑے تباہ کردیتاہے؟

 

سماء ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ماہر متعدی امراض ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ اگر اومیکرون ویرینٹ نہ ہوتا تب بھی کرونا وائرس کی نئی لہر دسمبر میں متوقع تھی کیوں کہ سرد موسم میں کرونا کے کیسز بڑھنے کا امکان ہوتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں بھی کیسز بڑھنا شروع ہوگئے ہیں گوکہ ابھی اس کی رفتار آہستہ ہے۔

ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی سنسنی خیزی اور افواہوں سے دور رہیں کیوں کہ اومیکرون کی دوسروں میں منتقلی ابھی غیر واضح ہے لیکن اس کی تشخیص پاکستان میں ممکن ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی افریقہ میں بڑھتے کیسز کرونا کے نئے ویرینٹ اومیکرون ہی کے ہیں یا نہیں اس پر بھی تحقیق ابھی جاری ہے۔

ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ نئے ویرینٹ کے پھیلاؤ کا طریقہ کار وہی ہے اس لیے شہریوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں لیکن احتیاط ضرور کریں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وائرس سے بچاؤ کے طریقے بھی وہی ہیں کہ ویکسینیشن کروائیں، سماجی فاصلہ برقرار رکھیں، بھیڑ والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔

HEALTH

VACCINE UPDATES

Tabool ads will show in this div