جام کمال نے مستعفی ہونے کی وجوہات بتادیں

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی سات سے آٹھ میں گفتگو
Nov 30, 2021

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو آج کل جن منصوبوں کا افتتاح کررہے ہیں وہ میرے دور حکومت کے منصوبے تھے جو ہماری 3 سالہ محنت کا نتیجہ ہے۔

سماء کے پروگرام سات سے آٹھ میں گفتگو کرتے ہوئے جام  کمال خان کا کہنا تھا کہ وہ مستعفی ہونے کے بعد صرف 10 روز کے لیے بیرون ملک گئے تھے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ رکن اسمبلی ہیں اور اپنے حلقے کی خدمت اور سیاست جاری رکھیں گے۔

قدوس بزنجو کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ بیوروکریسی کے ساتھ اجلاسوں کا مقصد معاملات سمجھنا اور حکومتی پالیسوں پر عملدرآمد کرنا ہوتا ہے لیکن اگر سب کچھ بیوروکریسی کے اختیار پر چھوڑ دیا جائے تو پھر حکومت کا کیا کام رہ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ جام کمال کو کسی نے نکالا نہیں بلکہ میں نے خود استعفیٰ دیا ہے تاکہ پارٹی ٹوٹنے سے بچ جائے اور پی ڈی ایم کے لوگ حکومت کا حصہ نہ بن جائیں۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ حکومت کی تبدیلی ایک طرح سے اچھی بات بھی ہے  اب انہیں چاہیے کہ جن چیزوں کے لیے وہ ہم پر تنقید کرتے تھے ان چیزوں کو بہتر کریں۔

رہنما بی اے پی کا کہنا تھا کہ اس وقت بلوچستان میں کوئی اپوزیشن نہیں ہے اور پورا 65 رکنی ایوان حکومت کا حصہ ہے۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ کچھ رہنماؤں نے وزیراعظم کو بلوچستان کے بارے میں جو حقائق بتائے تھے وہ درست نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو بتایا گیا تھا کہ  جام کمال استعفیٰ نہیں دیتے تو بلوچستان میں پی ڈی ایم حکومت میں آجائے گی۔

انہوں نے کہا وزیراعظم عمران خان کا صرف یہ موقف تھا کہ باہمی اختلافات کا فائدہ پی ڈی ایم کو نہیں ہونا چاہیے اور پھر مجھے بھی یہ لگا کہ واقعی کہیں حالات اس طرف نہ چلے جائیں۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ صادق سنجرانی نے شروع میں ان کے خلاف مہم کا سدباب کرنے کی کوشش کی تھی لیکن ان کے بھائی کا میرے مخالف کیمپ میں اہم کردار ادا کر رہے تھے جس کی صادق سنجرانی کو وضاحت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ بلامقابلہ وزیراعلیٰ منتخب ہونا عیجب روایت ہے جو میرے لیے باعث حیرت ہے کیوں کہ ان تمام پارٹیوں کے باہر اختلافات ہیں لیکن اسمبلی کے اندر وہ متحد ہیں۔

جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو اس وقت فنڈ کی کمی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے مگر سب سے بڑا چیلنج ترقیاتی منصوبوں کی سست روی کا ہے۔

بلوچستان میں بار بار حکومت کی تبدیلی پر تبصرہ کرتے ہوئے جام کمال کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں حکومت بدلنا اس لیے آسان ہے کیوں کہ یہاں نمبر گیم چھوٹا ہے یعنی اراکین کی تعداد کم ہے۔

former chief minister

JAM KAMAL

Tabool ads will show in this div