افغانستان:سابقہ سیکیورٹی اہلکار لاپتہ اور  قتل ہونے کا انکشاف

عام معافی کے باوجود انتقامی کارروائیاں جاری ہیں،رپورٹ

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان حکومت میں سابقہ حکومت میں پولیس یا سیکیورٹی فورسز میں خدمات دینے والے اہلکار یا تو قتل ہورہے ہیں یا ان کو لاپتہ کیا جارہا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی منگل کو جاری ہونے والے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں سابقہ دورِ حکومت کے پولیس اور سکیورٹی سے تعلق رکھنے والے فارغ شدہ اہلکاروں کے قتل یا ان کے جبری طور پر لاپتہ ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق طالبان حکومت کے ہاتھوں ایک سو سے زائد ایسے افراد کو ہلاک یا انہیں جبری طور پر اٹھا لیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں ان کارروائیوں کو سابقہ حکومت میں فوج اور پولیس کے اقدامات کے جواب میں انتقامی سلسلہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان جنگجو حکومتی ریکارڈ کی مدد سے ایسے افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں جنہوں نے ان کو ہدف بنایا تھا۔ ان میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے خود کو سرنڈر کر دیا اور انہیں عام معافی کا حکومتی خط بھی دیا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ طالبان کے مسلح کارکنوں کی ان وارداتوں سے ہونے والی ہلاکتوں نے ملک کے کئی حصوں میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق طالبان کے عام معافی کے وعدے نے مقامی کمانڈروں کو انتقامی کارروائیوں سے نہیں رو کا اور وہ فوج، خفیہ اداروں اور پولیس کے اہلکاروں کو بتدریج نشانہ بنا رہے ہیں۔

دوسری جانب افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے وزیر اعظم محمد حسن اخوند نے 27 نومبر کو ایک عوامی جلسے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے انتقامی کارروائیوں کی رپورٹس کی تردید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ عام معافی حاصل کرنے والے سابق اہلکاروں میں سے کوئی اگر کسی غلط کام کا مرتکب ہوگا تو پھر اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔

Human Rights Watch

Tabool ads will show in this div