لڑکیوں میں سگریٹ پینے کا رجحان بڑھ رہا ہے،نوشین حامد

پارلیمانی سیکرٹری صحت کا قومی مذاکرہ سے خطاب

پارلیمانی سیکرٹری صحت نوشین حامد کا کہنا ہے کہ لڑکیوں میں سگریٹ نوشی کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جس کے نقصانات سامنے آ رہے ہیں۔

پناہ کےزیراہتمام تمباکو نوشی کے خلاف قومی مذاکراہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شادی کے بعد بھی سگریٹ نوشی نہ چھوڑنے والی خواتین کو طلاق کا بھی سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔

نوشین حامد نے انکشاف کیا کہ معاشرے میں بڑھنے والی طلاق کی شرح کی ایک بڑی وجہ لڑکیوں کی سگریٹ نوشی کی عادت بھی ہے جس کے باعث انہیں ان کے ازدواجی معاملات بگڑ جاتے ہیں۔

نوشین حامد کا کہنا تھا کہ لڑکیاں خاصی حد تک سگریٹ نوشی کی جانب راغب ہوچکی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا وہ ذاتی طور پر ایسے گھرانوں کو جانتی ہیں جہاں لڑکیاں سگریٹ پینے کی عادی تھیں لیکن  جب وہ شادی کے بعد سسرال گئیں تو اس عادت کو ترک نہ کرسکیں اور پھر نوبت طلاق تک پہنچ گئی۔

انہوں نے نے تمباکو نوشی کے علاوہ سافٹ ڈرنکس کے نقصانات بھی بتاتے ہوئے کہا کہ ملک میں  ذیابطیس کے کیسز بھی بڑھ رہے ہیں اور پولی کلینک میں روز 600 سو تا 800 ایسے مریض آتے ہیں۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے دیگر مقررین نے بتایا کہ 11 فیصد اموات تمباکو نوشی سے ہی ہوتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیگریٹ پینے والے ہر 5 افراد میں سے 2 خواتین ہوتی ہیں۔

Nausheen Hamid

Parliamentary secretary

Tabool ads will show in this div