رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایف بی آر سے رجسٹریشن لازمی قرار

حکومت کا منی لانڈرنگ کے خلاف فیٹف کی شرط پوری کرنے کا فیصلہ
[video width="640" height="360" mp4="https://i.samaa.tv/wp-content/uploads/sites/11//usr/nfs/sestore3/samaa/vodstore/urdu-digital-library/2020/11/Real-Estate-Agents-Registration-Isb-Pkg-30-11.mp4"][/video]

حکومت نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی ہے۔

ایف بی آر سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کی ایف بی آر سے رجسٹریشن لازمی قرار دے دی گئی ہے  جس کے بعد کوئی بھی سرکاری یا نجی ڈیویلپمنٹ اتھارٹی غیر رجسٹرڈ ایجنٹ سے بزنس نہیں کر سکے گی جبکہ غیر منقولہ پراپرٹی کی ٹرانسفر یا رجسٹریشن بھی نہیں ہو سکے گی۔

نوٹیفیکشن کے مطابق تمام ہاؤسنگ اتھارٹیز، کارپوریٹ ہاؤسنگ سوسائٹیز پر یہ شرط لاگو ہوگی جبکہ اس کا اطلاق رہائشی یا کمرشل مقاصد کےلیے ڈیویلپمنٹ اسکیموں پر بھی ہوگا اور خلاف ورزی کی صورت میں منی لانڈرنگ، ٹیرر فنانسنگ کے قوانین کے تحت کاروائی ہوگی۔حکومت نے منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف فیٹف کی شرط پوری کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو نان فنانشل بزنس اینڈ پروفیشن کے طور پر بھی رجسٹر کرانا ہوگا، تعمیرات، پراپرٹی کی خریدوفروخت یا ملکیتی حقوق کی منتقلی پر کیلیے بھی رجسٹریشن کی شرط عائد کردی گئی ہے۔ ملک میں رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اور پراپرٹی ڈیلرز کی تعداد 4 لاکھ سے زائد ہے لیکن صرف 25 ہزار ایجنٹس نے رجسٹریشن کروائی ہے۔

Tabool ads will show in this div