اسپرین کا استعمال دل کے دورے کاامکان بڑھا سکتی ہے

یورپیئن سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے محققین کی رپورٹ
Nov 30, 2021
فوٹو: اے ایف پی
فوٹو: اے ایف پی
[caption id="attachment_2449168" align="alignnone" width="800"]Aspirin فوٹو: اے ایف پی[/caption]

دنیا کی مقبول دوا ’’اسپرین‘‘ کا استعمال دل کے دورے کے 26 فی صد خطرے کا سبب بن سکتی ہے۔

العربیہ نیوز کے مطابق یورپیئن سوسائٹی آف کارڈیالوجی کے محققین نے اس حوالے سے جن عوامل کو مدنظر رکھا ہے، ان میں ہائی بلڈ پریشر (بلندفشار خون)، تمباکو نوشی، ذیابیطس، موٹاپا، ہائی کولیسٹرول اور مختلف قلبی امراض شامل ہیں۔

محققین کے مطابق عارضہ قلب پراسپرین کا اثر متنازع تھا اور اس تحقیق کا مقصد دل کی بیماری کے ساتھ اوراس کے بغیر دونوں صورتوں میں لوگوں میں اسپرین کے استعمال کے باہمی تعلق کا جائزہ لینا تھا۔

جرمنی کی یونیورسٹی آف فری برگ کے مطالعاتی مصنف ڈاکٹر بلیریم مجاج نے ایک بیان میں کہا کہ یہ پہلا مطالعہ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اسپرین لیتے ہیں ان میں دل کے دورے کا امکان ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے جو دوائی استعمال نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان نتائج کی تصدیق کی ضرورت ہے لیکن اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ اسپرین اور دل کے دورے کے درمیان ممکنہ ربط کو واضح کرنا چاہیئے۔

 تجزیاتی مطالعے میں 30ہزار سے زیاہ افراد شامل تھے اور انھیں دل کا عارضہ لاحق تھا یا انھیں دل کے دورے کے خطرے کا سامنا تھا۔ ان سب کا اندراج مغربی یورپ کے ممالک اور امریکا سے کیا گیا تھا، شرکاء کی عمر 40 سال یا اس سے زیادہ تھی اور بیس لائن پر وہ دل کے دورے سے پاک تھے۔

تحقیق میں شامل افراد کی اوسط عمر 67سال تھی اور ان میں سے 34 فی صد خواتین تھیں۔ بیس لائن پر 7698 شرکاء (25 فی صد ) اسپرین لے رہے تھے۔ محققین نے بتایا کہ نگرانی کے دوران ان میں سے 1330 شرکاء کو دل کے دورے کا خطرہ لاحق ہوا ہے۔

محققین نے جنسی تعلقات، عمر، باڈی ماس انڈیکس، تمباکو نوشی، شراب کا استعمال، بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن، بلڈ کولیسٹرول، ہائپرٹینشن، ذیابیطس، قلبی امراض اور رینن اینجیوٹینسن الڈوسٹرون سسٹم انہیبیٹرز، کیلشیم چینل بلاکرز، ڈائیوریٹک، بیٹا بلاکرز اور جسمانی چربی کم کرنے والی دواؤں کے ساتھ علاج کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا ہے۔

Aspirin