لاہور: پتنگ کی ڈور نے ایک اور نوجوان کی جان لےلی

اسد نےحال ہی میں انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا تھا

لاہور میں کٹی پتنگ کی ڈور نے ایک اور نوجوان کی جان لےلی 21سالہ اسد ڈيوٹی سے گھر واپس آرہا تھا کہ راستے میں ڈور پھرنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

پتنگ بازوں کو لگام ڈالنے کے حکومتی دعوؤں کے باوجود پتنگ بازی کا خونی کھیل تاحال جاری ہے، ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب ڈيوٹی سے واپس گھر جانے والا اکيس سالہ  اسد گھر سے چند قدم کے فاصلے پر کٹی پتنگ کی ڈور گردن پر پھرنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہو گيا۔ اسد مغل پورہ کا رہائشی تھا جو نجی سینما میں ٹکٹنگ کا کام کرتا تھا۔

نوجوان کی میت گھر پہنچی تو کہرام مچ گیا غمزدہ  ماں  سوال کرنے لگی کہ میرے بیٹے کی ناحق موت کا ذمہ دار کون ہے؟ جبکہ جاں بحق ہونے والے اسد کے والد کا کہنا تھا کہ ابھی پہلی تنخواہ گھر نہیں پہنچی تھی کہ موت کا پیغام  گھر پہنچ گیا۔

نوجوان کے محلہ داروں کا کہنا تھا کہ اسد انتہائی شریف النفس انسان تھا اور حال ہی میں اسد نے اپنے انجینئرنگ کا کورس مکمل کیا تھا۔

ترجمان پنجاب حکومت حسان خاور کا کہنا ہے کہ پتنگ بازی پر مکمل پابندی ہے اور ملوث افراد کیخلاف سخت کارروائی ہورہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

واضح رہے کہ رواں سال پانچ افراد اس خونی کھیل کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن میں تین سالہ خضر اور ایک پروفیسر بھی شامل ہیں۔

kite string

Tabool ads will show in this div