اسلام آبادکے پڑوس میں قدیم زندگی جیتاایک خوش وخرم گاؤں

آسائشیوں سےعاری لیکن زندگی سےبھرپور کینتھلا

جدت اور ترقی کی دوڑ میں دنیا کے ہمسفر شہر اسلام آباد سے چند کلومیٹرکے فاصلے پر ایک ایسا گاؤں بھی ہے جس کے باسی آج بھی قدیم طرز زندگی گزار رہے ہیں لیکن خوش و خرم دکھائی دیتے ہیں۔

چاروں طرف پہرے پر مامور پہاڑ اور ہر طرف سبزہ ہی سبزہ رکھنے والے اور اسلام آباد سے چند کلومیٹر دور شاہ اللہ دتہ کے قدیم غاروں کے پاس واقع اس گاؤں کا نام کینتھلا ہے۔

کینتھلا کے مکین آج بھی جدید سہولیات سے محروم  ہیں لیکن گاؤں کے باسی خوشحال اور مطمئن زندگی گزار رہے ہیں۔ گاؤں میں رستے اور اکثر مکان بھی کچے ہیں۔

گھر گھر پانی کی موٹر لگی ہے نہ یہاں واٹر سپلائی کا کوئی انتظام ہے۔ پورا گاؤں کنویں سے پانی بھرتا ہے اور یہاں کے مکینوں کے دکھ سکھ بھی سانجھے ہیں۔ کچے راستوں پر بچے آج بھی قدیم طرز کے کھیلوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔

گاؤں کے ایک مکین کا کہنا ہے کہ ہم پانی آ ج بھی کنویں سے بھر رہے ہیں، وہی پرانے طریقے کی طرح لوگ کافی دور سے پانی کے لیے آتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دو دو کلومیٹر سے آ کر عورتیں و بچے چشمے سے پانی بھر کر گھر لے جاتے ہیں۔

نفسا نفسی اور خود غرضی کا زہر ابھی اس گاؤں میں نہیں پھیلا۔ سہولیات سے محروم ہونے کے باوجود مکین اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن ہیں۔

گائے اور بکریاں پالنا اس گاؤں کے زیادہ تر لوگوں کا ذریعہ معاش ہے اور علاقے کے جاذب نظر اور سرسبز پہاڑ اُن کے لیے چراگاہ کا کام کرتے ہیں۔

ایک خاتون نے اللہ کا تشکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ گاؤں والے بہتر زندگی گزار رہے ہیں اور یہاں خاصی خوشحالی بھی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی کے ساتھ غم کا معاملہ ہو یا خوشی کا سارا گاؤں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور ہر ممکن تعاون کرتا ہے۔

شہر کی گہما گہمی سے ذرا فاصلے پر اس گاؤں میں سادہ طرز زندگی کا چلن اب بھی باقی ہے۔ یہاں کے مکین یہ ثابت کرتے ہیں کہ آسائشیں نہ ہوں تب بھی خوش اور مطمئن رہا جاسکتا ہے، جیا جاسکتا ہے۔

Tabool ads will show in this div