چائلڈپورن شیئرکرنےوالےملزم ضمانت کے مستحق نہیں،سپریم کورٹ

عدالت نےچائلڈپورن کیس کےملزم کی درخواست ضمانت مسترد کردی

CHILD-ABUSE-3-1

سپریم کورٹ نے بچوں کی غیراخلاقی ویڈیوز شیئر کرنے والے ایک ملزم کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ چائلڈ پورنوگرافی سوشل میڈیا پر پھیلانے والے ملزم ضمانت کے مستحق نہیں۔

مقدمے کے ملزم عمر خان کی شکایت براہ راست فیس بک انتظامیہ کی جانب سےکی گئی تھی جس پر ایف آئی اے نے کارروائی کا آغاز کیا تھا۔ ملزم کے خلاف سائبر کرائم سرکل ایبٹ آباد میں مقدمہ درج ہے۔

ملزم نے ضانت کی درخواست دائر کی تھی تاہم اسے سپریم کورٹ سے بھی ریلیف نہیں مل سکا۔ سپريم کورٹ نے درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کوکیس کا جلد فیصلہ کرنےکی ہدایت بھی کی۔

جسٹس مظاہر علی اکبر کی جانب سے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایسا مواد شیئر کرنا معاشرے کو کھوکھلا کرنے کا جرم ہے۔ فیصلے میں چائلڈ پورنوگرافی کو بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات کی بڑی وجہ بھی قرار دیا گیا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ بچوں کی غیر اخلاقی فلمیں معاشرے کے لیے تیزی سے پھیلتا ہوا ناسور ہیں جن کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ عدالت نے غیراخلاقی مواد کو بچوں کے مستقبل اور اخلاقیات کیلئے خطرہ بھی قرار دیا۔

سماعت کے دوران ملزم کے وکیل نے دلیل دی کہ اس مقدمے میں کوئی متاثرہ فریق سامنے نہیں آیا جسے عدالت نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ مقدمہ بچوں کا غیراخلاقی مواد بنانے کا نہیں شیئر کرنے کا ہے۔

Tabool ads will show in this div