سندھ اسمبلی سے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013ء میں ترامیم منظور

ڈی ایم سی کو ٹی ایم سیز سے تبدیل کیاجائیگا

سندھ حکومت نے موجودہ سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ-2013 میں ترامیم کرنا شروع کردیں ہیں۔ وزیر بلدیات کہتے ہیں کہ سندھ اسمبلی نے اتفاق رائے سے ترامیم منظور کرلیں۔

صوبائی حکومت نے میٹروپولیٹن کارپوریشن کو کچھ اختیارات منتقل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایس ایل جی اے 2013ء میں کچھ تبدیلیاں کرنا شروع کردیں۔

مسودہ ابھی حتمی نہیں ہے۔ یہ عمل جاری ہے، لیکن کچھ ترامیم کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

بلدیاتی نظام کا موجودہ ڈھانچہ تبدیل ہونے جارہا ہے۔

ضلع میونسپل کارپوریشنز ڈی ایم سی کو ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ٹی ایم سی میں تبدیل کیا جائے گا۔

کراچی میں 7 ڈی ایم سیز ہیں، ہر ڈی ایم سی آزادانہ طور پر کام کر رہی ہے، ان کا اپنا بجٹ اور آمدنی کے وسائل ہیں۔

محکمہ تعلیم اور لوکل ٹیکس (اشتہار) محکمہ ڈی ایم سیز کے کنٹرول میں کام کررہے ہیں۔

مزید جانیے : سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج

ترمیم شدہ ایس ایل جی اے میں محکمہ تعلیم اور محکمہ لوکل ٹیکس (اشتہار) میٹروپولیٹن کارپوریشن کے تحت کام کریں گے۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز ایس ایل جی او 2001 کی طرز پر کے ایم سی کے تحت کام کریں گی جہاں ٹاؤن انتظامیہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کراچی (سی ڈی جی کے) کے تحت کام کررہی تھی۔

بلدیاتی نظام میں ترامیم کے تحت ٹی ایم سی کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا، اور وہ آبادی کی مخصوص تعداد پر بنائی جائیں گی۔

ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کے ایم سی کے میئر کی اجازت سے ٹیکس اور فیسیں وصول کریں گی۔

ترامیم کے مطابق ٹیکس جمع کرنے کا اختیار میئر کے ہاتھ میں ہوگا، جو ٹی ایم سی کو ٹیکس اور فیس جمع کرنے یا نہ کرنے کی اجازت دیں گے جبکہ سندھ حکومت کے ایم سی پر کوئی بھی نیا ٹیکس لگانے کی مجاز ہوگی۔

شہری سندھ میں یونین کمیٹیاں جبکہ دیہی سندھ میں یونین کونسلز موجود رہیں گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ایم سی کو ٹیکس وصولی کا اختیار دینے کے حوالے سے مزید ترامیم زیر بحث ہیں، ڈرافٹ کو حتمی شکل دینے میں چند ہفتے لگیں گے۔

واضح رہے کہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ پیش کیا جس پر اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا۔ وزیر بلدیاتی سندھ ناصر حسین شاہ کے مطابق ترامیم اتفاق رائے سے منظور کرلی گئیں کیونکہ کسی بھی اپوزیشن رکن نے ان کی مخالفت نہیں کی۔

ناصر حسین شاہ نے سندھ اسمبلی کے باہر اپوزیشن اراکین سے ملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلدیاتی ایکٹ میں ترامیم کیلئے تیار ہیں، اپوزیشن اراکین کے تمام اعتراضات دور کریں گے۔

Sindh assembly

SLGA2013 AMENDMENT

Tabool ads will show in this div